پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش : طالبہ کو زندہ جلائے جانے کے دلخراش واقعے کے خلاف احتجاج جاری

datetime 20  اپریل‬‮  2019 |

ڈھاکا(این این آئی )بنگلہ دیش کے ایک مدرسے میں نصرت جہاں رفیع نامی لڑکی کو تیل چھڑک کے آگ لگائے جانے کے وحشیانہ اقدام کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج گزشتہ روز بھی جاری رہا، مظاہرین نے فوری طور پر نصرت جہاں کے قاتلوں کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا،میڈیارپورٹس کے مطابق جنسی ہراسیت کے خلاف بات کرنے کی اس کی جرات کے پانچ دن بعد ہی اس کو زندہ جلا دینے اور

اس دوران جو کچھ ہوا اس نے بنگلہ دیش کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ اور دنیا کی توجہ جنوبی ایشیا کے اس قدامت پسند ملک میں جنسی طور پر ہراساں کی جانے والی خواتین کے سنگین حالات پر مرکوز کروائی ہے۔نصرت نے مقامی پولیس سٹیشن میں اپنا بیان دیا کہ اس کو پولیس سٹیشن میں محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے انتہائی برے تجربات کو یاد کر سکے۔ مگر اس کے برعکس اس کے بیان کی ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر نے اپنے موبائل پر ویڈیو بنائی۔پولیس نے نصرت جہاں کو تیل چھڑک کر زندہ جلانے کے الزام میں 17 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ آگ لگنے سے نصرت کا 80 فی صد جسم جل چکا تھا مگر اس نے جاتے جاتے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا جس نے مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی مزید آسان بنا دی ہے۔خیال رہے کہ دو ہفتے قبل 19 سالہ نصرت جہاں نے اپنے مدرسے کے ہیڈ ماسٹر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی درخواست دی تھی، جس کے بعد اسے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ وزیراعظم حسینہ واجد نے نصرت جہاں کے قاتلوں کو کٹہرے میں لانے کا عہد کیا ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں اس وحشیانہ فعل کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…