بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

چیف جسٹس آف پاکستان اعلان کریں اگر آئندہ پولیس کی گولی سے کوئی بے گناہ قتل ہوا تو اس کا ذمہ دار آئی جی ہو گا،ہم نے پولیس کو لائسنس ٹو کل دے رکھا ہے، عمران خان نے آج قوم کو ایک بار پھر تسلی دی‘ آپ نے گھبرانا نہیں، کیا قوم کو اب بھی نہیں گھبرانا چاہیے، جاوید چودھری کاتجزیہ

datetime 17  اپریل‬‮  2019 |

کراچی میں ڈیڑھ سال کا ایک اور بچہ پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا‘ مقتول احسن کے والدین اسے گود میں لے کر گھر کا سودا خریدنے کیلئے رکشے میں بازار جا رہے تھے‘ صفورا چونگی کے قریب پولیس نے سوکالڈ ملزمان پر فائرنگ کی‘ گولی ڈیڑھ سال کے احسن کو لگ گئی‘ بچہ والدہ کی گود میں ہلاک ہو گیا‘ یہ کراچی میں اس نوعیت کا پانچواں واقعہ ہے، 20 جنوری 2018ء کو شاہراہ فیصل پر مقصود پولیس مقابلے کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا‘ تیرہ اگست 2018ء کو ڈیفنس میں 10 سال کی امل

پولیس کی اندھی گولی کا نشانہ بن گئی‘ 23فروری 2019ء کو میڈیکل کی طالبہ نمرہ بیگ نارتھ کراچی میں پولیس کی گولی کا شکار ہوگئی اور چھ اپریل 2019ء کو قائدآباد میں 12 سال کا بچہ سجاد پولیس کی فائرنگ کی زد میں آگیا ‘ یہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے‘ پولیس اس ملک کے عوام کے تحفظ کیلئے ہے‘ عوام کو اس طرح گولیاں مارنے کیلئے نہیں‘ میری چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست ہے آپ سندھ کے آئی جی پولیس کو بلائیں اور ان پر قتل کے چھ مقدمے درج کریں اور یہ اعلان کریں اگر آئندہ پولیس کی گولی سے کوئی بے گناہ قتل ہوا تو اس کا ذمہ دار آئی جی ہو گا‘ آپ اس کے بعد دیکھئے گا پورے ملک میں پولیس کسی کو گولی نہیں مارے گی‘ ہم نے پولیس کو لائسنس ٹو کل دے رکھا ہے‘ یہ جب چاہتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں یہ کسی کو بھی گولی مار دیتے ہیں‘ ساہیوال کا واقعہ پولیس گردی کی خوفناک ترین مثال ہے‘ ریاست نے جب اس واقعے پر بھی کسی کو سزا نہیں دی تو پھر پولیس احسن جیسے بچوں کو کیوں نہ مارے‘ ہمیں کم از کم اب ہوش آ جانی چاہیے، اس سے پہلے کہ صاحب اقتدار لوگوں کے بچے بھی احسن کی طرح مرنا شروع ہو جائیں۔ گھروں کا منصوبہ اچھا ہے لیکن خدشہ ہے کہیں اس کا حشر بھی انڈوں اور مرغیوں کی سکیم کی طرح نہ ہو جائے‘ کیا ہماری اکانومی میں اتنی جان ہے کہ یہ گھروں کی اس سکیم کا معاشی بوجھ اٹھا سکے اور کیا بلوچستان کے لوگ فلیٹس میں رہ لیں گے، ملک میں صدارتی نظام کی بحث نے ایک بار پھر جنم لے لیا ہے‘ کیا یہ ممکن ہے؟ اور عمران خان نے آج قوم کو ایک بار پھر تسلی دی‘ آپ نے گھبرانا نہیں‘ کیا قوم کو اب بھی نہیں گھبرانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…