لاہور( این این آئی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت کوبحرانی حالت سے نکال لیاگیاہے،اس وقت مجموعی قومی پیداوار کی نسبت قرضہ مالیاتی ذمہ داریوں اورقرضے کی حد سے بہت اوپرچلاگیاہے تاہم معیشت کو درست سمت میں لانے کیلئے حکومت کوسخت فیصلے کرناہوں گے۔
عالمی مالیاتی فنڈکے ساتھ شرح تبادلہ کاکوئی ہدف زیرغورنہیں ہے۔سرکاری ریڈیو کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممتازڈیجیٹل اورسوشل میڈیافورمز کے ساتھ ملکی معیشت کی صورتحال پر سوال وجواب کے ایک پروگرام میں براہ راست گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ حکومت مجموعی قومی پیداوارکی نسبت قرضہ بتدریج کم کرنے اور 2023ء میں اپنی مدت کے اختتام تک اسے بہتر حالت میں لانے کیلئے پرعزم ہے۔اس وقت مجموعی قومی پیداوار کی نسبت قرضہ مالیاتی ذمہ داریوں اورقرضے کی حد سے بہت اوپرچلاگیاہے تاہم معیشت کو درست سمت میں لانے کیلئے حکومت کوسخت فیصلے کرناہوں گے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کوورثے میں حسابات جاریہ کے خطیرخسارے اورغیرملکی زرمبادلہ کے ذخائرمیں تیزی سے کمی کاسامناہے تاہم اب صورتحال بہتر ہے اوراس میں مزیدبہتری آئے گی۔علاوہ ازیں وزیرخزانہ اسدعمرنے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ شرح تبادلہ کے ہدف سے متعلق خبرکومسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ عالمی مالیاتی فنڈکے ساتھ شرح تبادلہ کاکوئی ہدف زیرغورنہیں ۔ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہاکہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو پاکستان کی معیشت پر کچھ رحم کرناچاہیے۔سابق وزیرخزانہ اپنے چارسالہ دورحکومت میں معیشت کوشدیدنقصان پہنچانے کے بعدجھوٹی خبریں پھیلارہے ہیں۔



















































