ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

حفاظتی انجکشن لگنے کے باعث ایک اورپھول مرجھا گیا، مبینہ غلط انجکشنوں کی وجہ سے تین ننھے بچے دم توڑ گئے،انتہائی افسوسناک صورتحال

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

چنیوٹ(این این آئی)ضلع چنیوٹ میں مبینہ طور پر حفاظتی انجکشن لگنے کے باعث ایک اور پھول مرجھا گیا۔مبینہ غلط انجکشنوں کے لگنے کے باعث ایک ماہ میں مرنے والے بچوں کی تعداد 3ہو گئی ۔چار سالہ فاطمہ دو ماہ کا نعلین اور چھ ماہ کی جنت بی بی مبینہ طور پر غلط اجنکشن لگنے کے باعث ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ گئے تینوں بچوں کی مبینہ ہلاکتوں پر

محکمہ صحت چنیوٹ و محکمہ صحت پنجاب کے متعلقہ افسران کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی معلوم ہوا ہے کہ چنیوٹ کے علاقہ محلہ معظم شاہ میں حفاظتی انجکشن کے باعث جابحق ہونیوالی 5 ماہ کی جنت فاطمہ چل بسی، گزشتہ ایک ماہ کے دوران مبینہ غلط انجکشن لگنے سے بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 3 ہوگئی۔ محکمہ ہیلتھ کی جانب سے لگائی جانے والی ویکسین بچوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے لگی ہے۔ والدین کی گودیں اجڑنے پر تین گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔تینوں بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ ضلع چنیوٹ میں ایک ماہ کے دوران سرکاری مبینہ انجکشن لگنے سے تین بچوں کی ہلاکتوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب نوٹس لیں انجکشن چیک کروائے جائیں، سرکاری حفاظتی ٹیکوں سے معصوم بچوں کی مبینہ طور پر ہلاکتیں محکمہ صحت کے لئے سوالیہ نشان ہیں فوری طور پر ادویات کی کوالٹی چیک کرنا چاہئے جبکہ دوسری جانب لیگی ایم پی اے مولانا الیاس چنیوٹی نے بھی ضلع چنیوٹ میں مبینہ طور پر لگنے والے غلط انجکشنوں سے ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اس امر پر فوری نوٹس لینے اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…