جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

ملائیشیا کے وزیراعظم کا دورہ دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون ،باہمی تعلقات کے فروغ کے ضمن میں سنگ میل ثابت ہو گا : افتخار علی ملک

datetime 21  مارچ‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین معاشی تعاون اور باہمی تعلقات کے فروغ کے ضمن میں سنگ میل ثابت ہو گا۔ جمعرات کو یہاں پاک ۔ ملائیشیا ٹریڈرز کے 10 رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جنوب مشرقی ایشیا میں پاکستان ملائیشیا کا

دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر تھا۔ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کے فروغ کی بے پناہ گنجائش موجود ہے اس لئے انہیں مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں سمیت نئے مواقع کی تلاش کیلئے تمام تر اقدامات کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دو طرفہ تجارت میں موجودہ اضافہ 2007 میں آزادانہ تجارتی معاہدے پر دستخط کے بعد شروع ہوا تھا۔ دو طرفہ تجارت میں پاکستان کا حصہ صرف 257 ملین ڈالر ہے جس کی وجہ سے تجارت کا توازن ملائیشیا کے حق میں ہے۔ اس عدم توازن پر قابو پانے کیلئے ملائیشیا کو پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے مرکزی چیئرمین افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستانی کاروباری برادری ملائیشیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور نئے تجارتی امکانات کو فروغ دینے کیلئے پر عزم ہے۔ ملائیشیا اور دیگر برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے بہتر تعلقات تجارت کا فروغ عوامی خوشحالی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا کی کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کیلئے رابطہ دفاتر، برانچ آفس یا کسی پاکستانی کمپنی کے قیام یا اس کے ملکیتی ماتحت ادارے یا مشترکہ منصوبے کے طور پر کسی بھی طریق کار کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک فنانس، حلال فوڈ انڈسٹری، توانائی، کم لاگت ہاؤسنگ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ٹیلی مواصلات اور تعلیم کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لئے بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا اور پاکستان کے مابین 1957 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے قریبی دوستانہ تعلقات استوار ہیں اور مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور غیر وابستہ ممالک کی تحریک، اسلامی کانفرنس اور جی۔77 تنظیم سمیت ان کا نکتہ نظر یکساں ہے اور پاکستان آسیان کا

ڈائیلاگ پارٹنر اور آسیان ریجنل فورم کا بھی رکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی قدر مشترک ہے کہ دونوں ممالک میں نئی حکومتیں قائم ہوئی ہیں اور دونوں ہی کرپشن کیخلاف جنگ اور سرکاری و نجی شعبوں میں گڈ گورننس کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں اس سے بھی دونوں ممالک کے درمیان مزید تعاون کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان کو چاہیئے کہ ملائیشیا کو سی پیک کے میگا منصوبوں میں

حصہ لینے کے لئے دعوت دے۔ پاکستان ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ سرمایہ کاری کے لئے سب سے زیادہ پر کشش ملک ہے اور وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے بہترین مراعاتی پیکیج بھی پیش کیا ہے جبکہ سیاحوں اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لئے انتہائی لبرل ویزا رجیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے، اس سے بھی ملائیشین بزنس کمیونٹی کو فائدہ اٹھانا چاہیے ۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…