اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

یکم فروری کو زمین سے سیارچہ ٹکرانے کے بعدقیامت خیز المیہ برپا ہونے والا ہے ، پوری دنیا میں خوف و ہراس ، فلکیاتی ماہرین کا موقف بھی سامنے آگیا

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

جدہ (این این آئی) فلکیاتی علوم انجمن کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاہرہ نے کہا ہے کہ یکم فروری 2019 ء کو کرہ ارض سے سیارچہ ٹکرانے اور اس سے قیامت خیز المیہ برپا ہونے کے جو دعوے سوشل میڈیا پر کئے جارہے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔ افواہ سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سیارچہ کے قطر 1.4 تا 2 کلومیٹر ہے یہ ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے کرہ ارض کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔ یکم فروری کو کرہ ارض سے ٹکرا کر عالمی بحران کھڑا کردے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق ابو زاہرہ نے بتایا کہ میساچوسٹس ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ نے 9 جولائی 2002ء کو مبینہ سیارچے کا انکشاف کیا تھا۔ بیشتر سیارچے سورج کے اطراف گردش کرتے ہیں۔ یہ سیارچہ 42 ڈگری زاویے سے گردش کرتا ہے اور اپنا بیشتر وقت شمسی نظام سے اوپر نیچے رہ کر گزارتا ہے۔ یہ کرہ ارض سے دور نہیں ہے۔ اس کا امکان ہے کہ یکم فروری کو یہ کرہ ارض سے ٹکرا جائے۔ اسکالرز نے اس کے بعد مزید تحقیق کرکے بتایا کہ زمین سے ٹکرانے کا امکان بے حد معمولی ہے۔ یکم اگست 2002ء کے بعد اس سیارچے کو کرہ ارض کیلئے خطرناک سیاروں کی فہرست سے خارج کردیا گیا۔ اس کے بعد کوئی بھی ایسا سیارچہ یا دمدار سیارہ ریکارڈ پر نہیں آیا جو کرہ ارض کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔  فلکیاتی علوم انجمن کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاہرہ نے کہا ہے کہ یکم فروری 2019 ء کو کرہ ارض سے سیارچہ ٹکرانے اور اس سے قیامت خیز المیہ برپا ہونے کے جو دعوے سوشل میڈیا پر کئے جارہے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔ افواہ سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سیارچہ کے قطر 1.4 تا 2 کلومیٹر ہے یہ ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے کرہ ارض کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…