اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

یکم فروری کو زمین سے سیارچہ ٹکرانے کے بعدقیامت خیز المیہ برپا ہونے والا ہے ، پوری دنیا میں خوف و ہراس ، فلکیاتی ماہرین کا موقف بھی سامنے آگیا

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

جدہ (این این آئی) فلکیاتی علوم انجمن کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاہرہ نے کہا ہے کہ یکم فروری 2019 ء کو کرہ ارض سے سیارچہ ٹکرانے اور اس سے قیامت خیز المیہ برپا ہونے کے جو دعوے سوشل میڈیا پر کئے جارہے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔ افواہ سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سیارچہ کے قطر 1.4 تا 2 کلومیٹر ہے یہ ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے کرہ ارض کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔ یکم فروری کو کرہ ارض سے ٹکرا کر عالمی بحران کھڑا کردے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق ابو زاہرہ نے بتایا کہ میساچوسٹس ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ نے 9 جولائی 2002ء کو مبینہ سیارچے کا انکشاف کیا تھا۔ بیشتر سیارچے سورج کے اطراف گردش کرتے ہیں۔ یہ سیارچہ 42 ڈگری زاویے سے گردش کرتا ہے اور اپنا بیشتر وقت شمسی نظام سے اوپر نیچے رہ کر گزارتا ہے۔ یہ کرہ ارض سے دور نہیں ہے۔ اس کا امکان ہے کہ یکم فروری کو یہ کرہ ارض سے ٹکرا جائے۔ اسکالرز نے اس کے بعد مزید تحقیق کرکے بتایا کہ زمین سے ٹکرانے کا امکان بے حد معمولی ہے۔ یکم اگست 2002ء کے بعد اس سیارچے کو کرہ ارض کیلئے خطرناک سیاروں کی فہرست سے خارج کردیا گیا۔ اس کے بعد کوئی بھی ایسا سیارچہ یا دمدار سیارہ ریکارڈ پر نہیں آیا جو کرہ ارض کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔  فلکیاتی علوم انجمن کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاہرہ نے کہا ہے کہ یکم فروری 2019 ء کو کرہ ارض سے سیارچہ ٹکرانے اور اس سے قیامت خیز المیہ برپا ہونے کے جو دعوے سوشل میڈیا پر کئے جارہے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔ افواہ سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سیارچہ کے قطر 1.4 تا 2 کلومیٹر ہے یہ ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے کرہ ارض کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…