ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

مذاکرات میں امریکا کا افغانستان میں مستقل فوجی اڈے برقرار رکھنے کا مطالبہ،طالبان کا ناقابل یقین ردعمل سامنے آگیا،بڑا بریک تھرو

datetime 14  جنوری‬‮  2019 |

واشنگٹن ( نیوزڈیسک) افغان طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں امریکا کی جانب سے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈے موجود رہیں گے، اور اس بات کی ضمانت دی جائے کہ افغان سرزمین مغرب کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ اس کے بدلے میں امریکا اور اس کے مغربی و عرب اتحادی امن معاہدے کے بعد افغانستان کی تعمیر اور بحالی کے لیے بھاری مالی امداد فراہم کریں گے۔ طالبان اگرچہ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرتے رہے ہیں مگر حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے مذاکرات میں انھوں نے افغانستان میں فوجی اڈے برقرار رکھنے کی امریکی تجویز پر لچک دکھائی ہے۔ابو ظہبی میں ہونے والے مذاکرات کے انعقاد میں ڈونلڈ ٹرمپ کا خط ملنے کے بعد پاکستانی وزیراعظم نے اہم کردار ادا کیا تھا، خط میں پاکستان سے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد کی درخواست کی گئی تھی۔ اسی وقت سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکی مطالبات تسلیم کرنے کے لیے افغان طالبان کو راضی کرنے کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن افغانستان میں مستقل فوجی اڈے قائم رکھنا چاہتا ہے اور جاری مذاکرات میں یہی بات زیربحث ہے۔  افغان طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں امریکا کی جانب سے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈے موجود رہیں گے، اور اس بات کی ضمانت دی جائے کہ افغان سرزمین مغرب کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ذرائع نے بتایاکہ اس کے بدلے میں امریکا اور اس کے مغربی و عرب اتحادی امن معاہدے کے بعد افغانستان کی تعمیر اور بحالی کے لیے بھاری مالی امداد فراہم کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…