ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

جب دہشت گردانہ حملہ ہی نہیں ہوا تو پھر پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کیوں کرنی پڑ گئی؟، کانگرس نے بھارتی حکومت کے دعوؤں کا بھانڈہ پھوڑ دیا

datetime 13  جنوری‬‮  2019 |

نئی دہلی (آئی این پی ) بھارتی کانگریس کے لیڈر منیش تیواری نے کہا ہے کہ جب دہشت گردانہ حملہ ہوا ہی نہیں ، تو پھر سرجیکل اسٹرائیک کیوں کرنی پڑ گئی؟،اڑی ، گرداس پور اور پٹھان کوٹ کے حملے بڑے دہشت گردانہ حملے نہیں تھے؟،55 مہینوں میں پٹھان کوٹ، امرناتھ یاترا، اڑی اور دیگر مقامات پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں 400 سے زیادہ اہلکاروں نے اپنی جانیں گنوائیں۔

تفصیلات ے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی اجلاس میں وزیر دفاع سیتا رمن کی جانب سے مودی حکومت کے دوران کوئی دہشت گردانہ حملہ نہ ہونے کا دعوی کئے جانے کے بعد کانگریس نے ان پر کڑی نکتہ چینی کی۔بی جے پی کے قومی اجلاس میں سیتا رمن نے پارٹی لیڈروں کے درمیان کہا کہ وزیر اعظم مودی نے یہ یقینی بنایا کہ دہشت گردوں کو ہندوستان میں کوئی جگہ نہ ملے ۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سیتا رمن نے کہا کہ سال 2014 کے بعد ملک پر کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت والی حکومت نے یہ یقینی بنایا کہ دہشت گردوں کو امن میں خلل ڈالنے کا کوئی موقع نہ ملے ۔کانگریس کے لیڈر منیش تیواری نے کہا کہ ملک کی وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ 55 مہینوں میں ہندوستان میں کوئی بڑا دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا، جب دہشت گردانہ حملہ ہوا ہی نہیں ، تو پھر سرجیکل اسٹرائیک کیوں کرنی پڑ گئی؟ کیا اڑی ، گرداس پور اور پٹھان کوٹ کے حملے بڑے دہشت گردانہ حملے نہیں تھے؟۔کانگریس لیڈر احمد پٹیل نے وزیر دفاع کے اس دعوے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وزیر دفاع کا یہ چونکانے والا دعوی سن کر کافی حیرانی ہوئی کہ مئی 2014 کے بعد سے کوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا ہے ۔ انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ گزشتہ 55 مہینوں میں پٹھان کوٹ، امرناتھ یاترا، اڑی اور دیگر مقامات پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں 400 سے زیادہ اہلکاروں نے اپنی جانیں گنوائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…