ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ایران میں سوشل میڈیا عوام کے لیے حرام، حکمرانوں کے لیے مباح

datetime 13  جنوری‬‮  2019 |

تہران(این اینآئی)بین الاقوامی سوشل میڈیا ایرانی رجیم کے گلے کی ہڈی بن کررہ گیا ہے جسے وہ نہ اگل سکتی ہے اور نہ نگل سکتی ہے۔ ایک طرف ایرانی حکمران طبقے میں سوشل میڈیا کواستعمال کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب عوام پر اس کے استعمال پر پابندیاں عاید ہیں۔ اس دوغلی پالیسی کے جلو میں خود ایران کے برسراقتدار اداروں کے درمیان بھی سوشل میڈیا کے حوالے سے

محاذ آرائی جاری ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر حسن روحانی اور ان کے حامی سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف ہیں جب کہ رہ برانقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب شدت پسند اور بنیاد پرست نہ صرف سوشل میڈیا پرپابندی عاید کرنے پر زور دے رہے ہیں بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت چین کی طرز پر اپنا الگ تھلگ انٹرنیٹ سسٹم متعارف کرائے جس میں غیرملکی سوشل میڈیا کا کوئی کردار نہ ہو۔ایرانی حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا پرپابندی کے باوجود لوگ چوری چھپے پراکسی ویب سائیٹس کا استعمال کرکے ممنوع سوشل میڈیا کی ویب سائیٹ بالخصوص فیس بک ،ٹوئٹر اور یوٹیوب تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔سوشل میڈیا کے استعمال کی یہ پابندی صرف عام شہریوں کے لیے ہے۔ دوسری جانب وزرا اور ارکان پارلیمنٹ سمیت دیگر اعلیٰ ریاستی عہدیدار کھلے عام ان ویب سائیٹس کو استعمال کرے دیکھے جاتے ہیں۔اس کا اندازہ آپ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ‘ٹوئٹر’ اکاؤنٹ سے لگا سکتے ہیں۔ ان کے انگریزی صفحے پر 5 لاکھ فالورز ہیں جب کہ انسٹا گرام کے فارسی اکاؤنٹ پر 23 لاکھ فالورز موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…