ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

”گائے بھی گھوڑے اور کتے کی طرح جانور ہی ہے، پوجا کرنا احمقانہ ،دنیا بھر میں ہمارا تما شا بن رہا ہے“ سابق بھارتی جج نے بھارتی سیکولرازم کا پردہ چاک کر دیا

datetime 4  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گائے بھی گھوڑے اور کتے کی طرح جانور ہی ہے، اس میں کوئی ایسی خاص بات نہیں کہ اسے پوجا جائے، گائے کی پوجا کرنا احمقانہ ہے، لوگ ہم پر ہنستے ہیں،بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے گائو رکشکوں کو مرچی لگا دی، ایسا بیان دیدیا کہ گائو رکشا کے نام پر مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کا قتل اور فسادات برپا کرنیوالے منہ چھپانے پر مجبور ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں گائو رکشا کے نام پر قتل و غارت گری اور فسادات کی خبریں تو آئے روز میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں اور ہندئوں گائے کو اپنی ماں کا درجہ دیتا ہیں تاہم اب بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نےایک ایسا بیان دیدیا ہے کہ جس نےانتہا پسند ہندوئوں کو مرچی لگا دی ہے اور وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ بھارتی جج کا کہنا تھا کہ گائے بھی گھوڑے اور کتے کی طرح جانور ہی ہے، اس میں کوئی ایسی خاص بات نہیں کہ اسے پوجا جائے، گائے کی پوجا کرنا احمقانہ ہے، لوگ ہم پر ہنستے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ سائنسی اعتبار سے چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ سابق جج کا کہنا تھا کہ سرکار کا دماغ خراب ہوگیاہے، ملک میں پاگل پن چل رہا ہے، چار سال کے دوران دنیا بھر میں ہندوستان کی ناک کٹواد گئی ہے۔ مسلمانوں کو کھلے میدان میں نماز کی ادائیگی سے روکنا بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہے، جب آر ایس ایس اپنے اجتماع کھلے پارکس میں کرسکتی ہے تو مسلمانوں کو کیوں روکا جارہا ہے۔واضح رہے کہ اب بھارت کے اندر سے بھارتی انتہا پسندوں اور ان کی بغل بچہ بنی ہوئی بی جے پی کی حکومت کے خَلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں اور متعدد بھارتی دانشور، صحافی ، شاعر ، وکلا اور ججز ہندو انتہا پسندی اور بھارت میں اقلیتوں کو غیر محفوظ قرار دے رہے ہیں۔جبکہ اس حوالے سے اب بھارتی صحافتی حلقوں میں بھی ایک بحث شروع ہو چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…