جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

شدید مالی بحران کے باعث پاکستان کی مالیاتی ریٹنگ ’’بی نیگیٹو ‘‘ ہو گئی

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مالیاتی درجہ بندی دینے والے 3 بڑے اداروں میں سے ایک’ فِچ ریٹنگز‘ نے پاکستان کی قرض لینے کی درجہ بندی کو زرِ مبادلہ کے کم ذخائر، خراب مالی صورتحال اور انتہائی بھاری واجب الادا رقم کے باعث کم کر کے ’بی نیگیٹو‘ کردیا۔ رپورٹ کے مطابق نیو یارک سے تعلق رکھنے والی ریٹنگ ایجنسی کا کہنا تھا کہ زرِ مبادلہ کے کم ذخائر، بیرونی قرضوں کی

ادائیگیوں میں اضافے، مالی صورتحال مسلسل خراب ہونے ملکی مجموعی پیداوار کی شرح کے اعتبار سے قرضو ں میں اضافے کی وجہ سے بیرونی مالیاتی خطرے کے پیشِ نظر طویل عرصے تک برقرار رہنے والی ریٹنگ ’بی‘ سے کم کر کے ’بی نیگیٹو‘ کی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے لیے ہونے والے کامیاب مذاکرات بیرونی مالیاتی صورتحال کو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن آئی ایم ایف پروگرام کے نفاذ میں خطرات موجود ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت اور اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کی سر توڑ کوششوں کے باوجود اکستان کے منقولہ ذخائر میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے اور یہ 6 دسمبر کو 7 ارب 30 کروڑ ڈالر کی سطح تک گرچکے تھےجو کہ ڈیڑھ ماہ کی درآمدات کے برابر ہے۔ ریٹنگ ایجنسی نے گزشتہ سال کے مقابلے میں بیرونی قرض کی ادائیگیوں میں اضافے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں متوقع کمی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ مجموعی مالیاتی ضروریات کا تخمینہ لگایا۔ اس بارے میں مالیاتی ایجنسی کا کہنا تھا کہ خود مختار قرض کی ذمہ داریوں میں آئندہ 3 برس میں فی سال 7 سے 9 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کرنا ہوگی جس میں آئندہ سال اپریل تک ایک ارب ڈالر کے یورو بونڈ کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آنے والے 10 سالوں تک بیرونی قرضوں کا حجم زیادہ رہنے کا امکان ہے کیوں کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق آؤٹ فلو کا آغاز 2020 میں ہوگا۔ فچ ریٹنگز کے لگائے گئے معاشی اندازوں کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی عدم موجودگی میں غیر ملکی ذرِ مبادلہ کے منقولہ ذخائر کم ہوتے ہوئے حالیہ مالی سال کے اختتام تک 7 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ ایجنسی کا کہنا تھا کہ ملکی مجموعی پیداوار کے اعتبار سے جون 2018

میں ختم ہونے والے مالی سال میں قرضوں کی شرح 72.5 فیصد رہی تاہم اب روپے کی قدر میں کمی اور مالی خسارے میں اضافے کی وجہ سے رواں مالی سال میں یہ شرح 75.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ادارے کے لگائے گئے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح بھی گزشتہ مالی سال کے 3.9 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…