اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومتی دعوئوں کے باوجود برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی، مالیاتی بحران مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتا ہے ، اقتصادی ماہرین نے خدشات کا اظہار کر دیا۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق برآمدات بڑھانے کیلئے حکومت کے بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود نومبر 2018میں گزشتہ سال اسی عرصہ کے مقابلے میں ساڑھے 12کروڑ ڈالرز6.35فیصد اور
ترسیلات زر میں پہلے ہی 40کروڑ ڈالرز کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ جس سے ادائیگیوں میں توازن مزید بگڑ گیا۔ دوسری جانب حکومت اسی تناسب سے درآمدات میں کمی نہیں لا سکی۔ سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ نومبر 2018میں گزشتہ سال اسی عرصہ کے مقابلے میں محض2.77فیصد 13کروڑ 20لاکھ ڈالرز کی کمی ہوئی۔ نومبر 2017میں برآمدات کا حجم 1968ملین ڈالرز تھا جو نومبر 2018میں گھٹ کر 1843ملین ڈالرز رہ گیا۔ اقتصادی ماہرین جنہوں نے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کیلئے حکومتی اقدامات کی حمایت کی تھی۔ اب انہیں حکومتی کارکردگی پر تشویش ہے۔ ان کی رائے میں مالیاتی بحران مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ گو کہ چند ماہ میں برآمدات بڑھانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم درآمدات میں دو فیصد اور برآمدات 6فیصد کمی کو اچھی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ 5ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 12فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اب انہیں حکومتی کارکردگی پر تشویش ہے۔ ان کی رائے میں مالیاتی بحران مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ گو کہ چند ماہ میں برآمدات بڑھانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم درآمدات میں دو فیصد اور برآمدات 6فیصد کمی کو اچھی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ 5ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 12فیصد اضافہ ہوا ہے۔تاہم گزشتہ ماہ اکتوبر 2018کے مقابلے میں ترسیلات زر میں 40کروڑ ڈالرز کی کمی واقع ہوئی۔ البتہ روپے کی قدر میں کمی سے ترسیلات زر پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔



















































