ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

خاشقجی قتل، امریکا نے ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ساتھی سمیت 17 سعودی حکام پر پابندیاں عائد کردیں، دھماکہ خیز اعلان

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

واشنگٹن (آئی این پی ) امریکا نے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 17 سعودی حکام پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کردیئے ۔فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے ترکی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خاشقجی قتل سے قبل ٹیپ کی جانے والی آڈیو ریکارڈنگ کو سننے کے بعد سعودی حکام کے امریکا داخلے پر پابندی عائد کی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ساتھی پر بھی پابندی عائد کی گئی جبکہ تمام افراد کے اثاثے بھی منجمد کردیے گئے۔ قبل ازیں سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل نے ترک حکومت کی جانب سے قتل کی عالمی تحقیقات کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سعودی صحافی کے قتل میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت کی استدعا کی جائے گی۔سعودی پبلک پراسیکیوٹر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ترک حکام کی جانب سے آڈیو ریکارڈنگ یا کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے، جیسے ہی ثبوت ملیں گے تو اس کی روشنی میں ملوث افراد کے خلاف سزائے موت کی سفارش کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کو واردات سے قبل منشیات دی گئی اور یہی ان کی موت کی وجہ بنی، اندوہناک قتل میں ملوث افراد پر فرم جرم عائد کردی گئی اور ٹرائل کے بعد انہیں سزا دی جائے گی جبکہ اس میں ولی عہد محمد بن سلمان کا کوئی کردار نہیں ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ترک صدر رجیب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کا حکم سعودی عرب کی اعلی ترین سطح سے آیا تھا، سعودی ولی عہد کے اقدامات کا تحمل سے انتظار کررہے ہیں۔یاد رہے کہ 2 اکتوبر میں سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی سفارت خانے گئے تھے جہاں انہیں قتل کردیا گیا تھا۔بیس اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سفارت خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…