جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کی تفصیلات طے کرنے کے لیے مشاورت

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کے سلسلے میں معاملات طے کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔ سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان اور گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی سربراہی میں پاکستانی وفد اپنے چینی ہم منصوبوں سے امدادی پیکج کی تفصیلات طے کرنے کے لیے بات چیت کرے گا۔ واضح رہے کہ مذکورہ بات چیت وزیراعظم

عمران خان کے دورہ چین کے سلسلے میں کی جارہی ہے جس میں دونوں ممالک نے 15 سمجھوتوں اور اقتصادی تعاون، تجارت اور دیگر شعبہ جات کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ پاکستان کو اب ادائیگیوں کے توازن میں بحران کا سامنا نہیں، وزیرخزانہ وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں اپنے دورہ چین کے حوالے سے آگاہ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ بیجنگ نے اسلام آباد کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے اور پاکستان کو آنے والے وقت میں اس کے ثمرات ملیں گے۔ خیال رہے کہ دورہ چین کے فوری بعد وزیر خزانہ اسد عمر نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب اور چین سے حاصل ہونے والی معاشی امداد کے سبب فوری طور پر ادائیگیوں کے توازن کا بحران ٹل گیا ہے تاہم انہوں نے حاصل ہونے والے امدادی پیکج کی تفصیلات فراہم نہیں کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چین سے بھی امداد ملنے کی توقع ہے لیکن اس کا حجم اور قسم کے حوالے سے بات چیت کرنی ہے چناچہ اب چین جانے والا وفد چینی حکام کے ساتھ ملاقات کر کے اس کی تفصیلات طے کرے گا۔ وزیر اعظم کی دورہ چین پر سیاسی و عسکری قیادت کو بریفنگ دوسری جانب آئی ایم ایف کی تکنیکی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے بھی ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے باعث پیدا ہونے والے بحران کا اندازہ لگانے کے لیے اعدادو شمار اکھٹے کرنے شروع کردیے ہیں۔ اس ضمن میں حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد کے چین سے وطن واپس آنے کے بعد آئی ایم ایف سے لیے جانے والے پیکج کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا اور اس کا اعلان 20 نومبر کو کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم اعظم کے دورہ چین کے دوران پاکستان نے چین کی جانب سے متعدد اقدامات کا اعلان کیا جس میں کم ہوتے زرِ مبادلہ کے ذخائر کا دباؤ کم کرنا خاص کر کرنسی تبادلے

کا معاہدہ شامل تھا۔ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے مکمل تعاون کریں گے،چین تاہم وزیراعظم کے مشیر برائے کامرس کی جانب سے صرف ایک اعلان سامنے آیا جو چینی حکومت کی پاکستان سے برآمدات بڑھانے کا تھا جو رواں مالی سال کے اختتام تک 1.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر آئندہ سال تک 3.2 ارب کرنا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی جانب سے چین سے برابری کی سطح پر تجارتی مواقع دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جس طرح چین نے بنگلہ دیش اور دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…