جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

حکومت کا نجکاری سے قبل سرکاری اداروں کو منافع بخش بنانے کا عزم

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کو آگاہ کیا کہ وہ ایک ’دولت فنڈ‘ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے خسارے کا شکار اداروں کو فروخت سے قبل منافع بخش ادارہ بنایا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کے سلسلے میں حکام کی وفد سے ملاقاتیں جاری ہیں جس میں اسٹیٹ بینک

فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اور وزارت خزانہ کے حکام نے سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالے سے مذکورہ منصوبہ پیش کیا۔ باضابطہ مشاورت میں ہونے والی تکنیکی نوعیت کی گفتگو کا مرکز ٹیکس کے معاملات اور ریونیو بڑھانا ہے جو آئندہ ہفتے تک جاری رہے گی جس کے بعد پاکستان کےساتھ قرض حاصل کرنے کی درخواست پر پالیسی سطح کی گفتگو کا آغاز کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے لیے بات چیت کا آغازاس سلسلے میں آئی ایم کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت منافع بخش سرکاری اداروں کو نجی سرمایہ کاروں کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وفد کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، پاکستان ریلوے، یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو فروخت کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا جس میں تمام ادارے کمرشل ہیں سوائے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جو ایک انتظامی ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ وفد کو وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے دیے گئے متعدد پالیسی بیانات کے بارے میں بھی بتایا گیا جس میں انہوں نے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو نجکاری سے قبل مالی طور پرمستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان کی آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش وفد نے حکام سے ’دولت فنڈ‘ کے مالیاتی ذرائع کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت رفتہ رفتہ ہر ادارے میں سرمایہ کاری کرے گی اور اس سلسلے میں میرٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اداروں کو منتخب کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے عہدیداران کو بتایا گیا کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری وزارت صنعت کو دسمبر کے وسط تک اسٹیل مل کے حوالے سے حکمتِ عملی وضع کرنے کی ہدایت کرچکی ہے اور اسی طرح متعلقہ وزارت، نجکاری کے لیے پیش کرنے سے قبل دیگر اداروں کے لیے بھی کرے گی۔ خیال رہے حکومت اور آئی ایم وفد کے درمیان شعبہ توانائی کے بارے میں پہلے ہی گفتگو ہوچکی ہے اور اب مانیٹری پالیسی اور تین سالہ مالی خلا کو پر کرنے کے لیے ملک کو درکار رقم کے حوالے سے غور و خوض کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…