جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا نجکاری سے قبل سرکاری اداروں کو منافع بخش بنانے کا عزم

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کو آگاہ کیا کہ وہ ایک ’دولت فنڈ‘ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے خسارے کا شکار اداروں کو فروخت سے قبل منافع بخش ادارہ بنایا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کے سلسلے میں حکام کی وفد سے ملاقاتیں جاری ہیں جس میں اسٹیٹ بینک

فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اور وزارت خزانہ کے حکام نے سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالے سے مذکورہ منصوبہ پیش کیا۔ باضابطہ مشاورت میں ہونے والی تکنیکی نوعیت کی گفتگو کا مرکز ٹیکس کے معاملات اور ریونیو بڑھانا ہے جو آئندہ ہفتے تک جاری رہے گی جس کے بعد پاکستان کےساتھ قرض حاصل کرنے کی درخواست پر پالیسی سطح کی گفتگو کا آغاز کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے لیے بات چیت کا آغازاس سلسلے میں آئی ایم کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت منافع بخش سرکاری اداروں کو نجی سرمایہ کاروں کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وفد کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، پاکستان ریلوے، یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو فروخت کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا جس میں تمام ادارے کمرشل ہیں سوائے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جو ایک انتظامی ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ وفد کو وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے دیے گئے متعدد پالیسی بیانات کے بارے میں بھی بتایا گیا جس میں انہوں نے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو نجکاری سے قبل مالی طور پرمستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان کی آئی ایم ایف سے سب سے بڑا قرض پیکیج حاصل کرنے کی کوشش وفد نے حکام سے ’دولت فنڈ‘ کے مالیاتی ذرائع کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت رفتہ رفتہ ہر ادارے میں سرمایہ کاری کرے گی اور اس سلسلے میں میرٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اداروں کو منتخب کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے عہدیداران کو بتایا گیا کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری وزارت صنعت کو دسمبر کے وسط تک اسٹیل مل کے حوالے سے حکمتِ عملی وضع کرنے کی ہدایت کرچکی ہے اور اسی طرح متعلقہ وزارت، نجکاری کے لیے پیش کرنے سے قبل دیگر اداروں کے لیے بھی کرے گی۔ خیال رہے حکومت اور آئی ایم وفد کے درمیان شعبہ توانائی کے بارے میں پہلے ہی گفتگو ہوچکی ہے اور اب مانیٹری پالیسی اور تین سالہ مالی خلا کو پر کرنے کے لیے ملک کو درکار رقم کے حوالے سے غور و خوض کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…