جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان،طالبان نے حملے تیز کر دئیے : انتخابات کے بائیکاٹ پر زور

datetime 9  اکتوبر‬‮  2018 |

کابل(انٹرنیشنل ڈیسک)افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے قریب آتے ہی طالبان نے حملے تیز کردئیے اور ساتھ افغان عوام پر زور دیا ہے کہ وہ پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان نے کہاکہ اماراتِ اسلامیہ اپنے تمام مجاہدین کو حکم دیتی ہے کہ وہ امریکا کی قیادت میں ملک بھر میں ہونے والے انتخابی عمل کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر اسے روکیں۔

افغانستان میں طالبان نے رواں ماہ ہونے والے انتخابات کوجعلی اورمکمل طور پر بوگس قرار دیتے ہوئے انتخابی عمل کے دوران حملوں کی دھمکی دی ۔ جاری کیے جانے والے ایک بیان میں طالبان قیادت نے اپنے جنگجووں کو انتخابی عمل انجام دینے والے سرکاری اہلکاروں اور سکیورٹی فورسزپر حملوں کا حکم دیا ہے۔طالبان نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور عوام سے انتخابات کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی اور کہا کہ انتخابی عمل کا مقصد محض ان کٹھ پتلیوں کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے جنہیں قابض قوتوں نے افغانستان پر مسلط کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ جو لوگ سکیورٹی فراہم کرکے انتخابی عمل کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں نشانہ بنایا جانا چاہیے اور طالبان اس امریکی سازش کو روکنے اور ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔طالبان کی اس دھمکی کے بعد 20 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل اور دوران سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔انتخابات میں افغان پارلیمان کے ایوانِ زیریں وولیسی جرگہ کی 249 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے جس کے لیے 418 خواتین سمیت ڈھائی ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔افغان حکومت کے مطابق پولنگ کے دن انتخابی عمل اور ووٹرز کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے 54 ہزار فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج نے بھی انتخابی عمل میں افغان حکام کی مدد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…