جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایران اقتصادی طور پر چاروں شانے چِت ہو سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ،ایک ڈالر کتنے لاکھ ایرانی ریال کے برابر ہوگیا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 8  اکتوبر‬‮  2018 |

تہران (این این آئی)ایران میں معاشیات کے 50 ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے ایرانی معیشت کے ڈھیر ہو جانے سے خبردار کیا ہے ور حکومت، پارلیمنٹ ، عدلیہ کے سربراہان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی نظام کی قیادت کو متنبہ کیا جائے کہ صورت حال ان کے تصور سے زیادہ خراب اور خطر ناک ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذکورہ ماہرین معاشیات نے ایک کھلے خط میں باور کرایا کہ

مقامی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ نے جو تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں ان کی نظیر گزشتہ 75 برسوں میں نہیں ملتی۔ ماہرین کا کہناتھا کہ غلط اقتصادی پالیسیوں کا نتیجہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ملک میں افراطِ زر کی اعلی ترین شرح کی صورت میں سامنے آئے گا۔خط میں کہا گیا ہے کہ خطرے کی گھنٹی بجائی جا رہی ہے.. حالات تصور سے زیادہ خطرناک اور دشوار ہیں کیوں کہ چوتھی بار کرنسی کے قدر میں شدید کمی کے اثرات نے ہر چیز کو تباہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق کرنسی کے نرخوں میں گراوٹ کے مسئلے کے ساتھ غلط طریقے سے نمٹا گیا اور یہ افراطِ زر میں 60% سے زیادہ اضافے کا سبب بنا۔حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایک بار پھر ایرانی ریال کے مقابل امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا۔ ایک ڈالر 1.2 اور 1.3 لاکھ ایرانی ریال سے بڑھ کر 2 لاکھ ریال تک پہنچ گیا۔ (ایک ریال 10 تومان کے برابر ہوتا ہے)۔اگرچہ حکومت کی جانب سے ایرانی ریال کی مسلسل گرتی ہوئی قدر پر روک لگانے کے لیے اقدامات کیے گئے تاہم اس کے باوجود قابل ذکر بہتری نہ آ سکی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق

اس وقت بھی ایک ڈالر 1.4 سے 1.5 لاکھ ایرانی ریال کے مساوی چل رہا ہے۔ماہرین معاشیات کی جانب افراطِ زر کی شرح میں اضافے اور ایرانی معیشت کے ڈھیر ہو جانے کے حوالے سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ میں بنیاد پرست ارکان وزراء کی اکثریت سے پوچھ گچھ اور ان پر عدم اعتماد ظاہر کر کے صدر حسن روحانی کی حکومت کو گھر بھیجنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…