جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں طالبان کا بڑا حملہ، تین صوبوں کا دارالحکومت کابل سے برّی رابطہ ختم کر دیا گیا،ہائی وے پْل تباہ کر دئیے گئے ،شدید لڑائی

datetime 8  اکتوبر‬‮  2018 |

کابل(این این آئی)افغان طالبان نے صوبہ وردک کے ضلع سید آباد میں سیکورٹی فورسز اورطالبان جنگجوؤں کے درمیان دو بدو لڑائی جاری ہے اوراس میں دونوں اطراف سے بھاری جانی نقصان ہوا ہے،حملوں میں افغان پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 20جنگجو بھی مارے گئے ، جبکہ طالبان عسکریت پسندوں نے وردک صوبے میں ڈسٹرکٹ سید آباد کے ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے، علاقے میں

مزید کمک بھیج دی گئی اور اب علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے تاہم طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ مذکورہ عمارت پر قابض ہو چکے ہیں،اسی دوران طالبان نے سکیورٹی فورسز کے خلاف ایک بڑا آپریشن کرتے ہوئے کئی ہائی وے پْل تباہ کر دئیے اور تین صوبوں کا دارالحکومت کابل سے برّی رابطہ ختم کر دیا گیا، اس لڑائی کی وجہ سے افغانستان کے چار صوبوں وردک، لوگر، غزنی اور پکتیا کو بجلی کی سپلائی بھی بند ہو گئی ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ روز افغان طالبان نے ایک بڑا عسکری آپریشن کرتے ہوئے متعدد پْل تباہ کر دئیے اور تین صوبوں کا دارالحکومت کابل سے برّی رابطہ ختم کر دیا گیا۔افغان وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی نے کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں نے وردک صوبے میں ڈسٹرکٹ سید آباد کے ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس لڑائی میں کم از کم 28 پولیس اہلکار ہلاک اور دیگر سات زخمی ہوئے ، صوبائی پولیس کے ترجمان حکمت درانی کا کہنا تھا کہ طالبان سکیورٹی فورسز کا اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ درانی نے سید آباد کی لڑائی میں بیس طالبان کے ہلاک ہونے کا بھی دعویٰ کیا ، رحیمی کا کہنا تھا کہ علاقے میں

مزید کمک بھیج دی گئی اور اب علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔دوسری جانب مختلف بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں کے مطابق طالبان نے متعدد پْل تباہ کرتے ہوئے غزنی، زابل اور قندہار کا دارالحکومت سے بری رابطہ ختم کر دیا ۔ اس لڑائی کی وجہ سے افغانستان کے چار صوبوں وردک، لوگر، غزنی اور پکتیا کو بجلی کی سپلائی بھی بند ہو گئی ۔اسی طرح صوبہ فریاب میں پشتون کوٹ پر حملہ کرتے ہوئے

طالبان نے کم از کم28 سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ صوبائی کونسل کے رکن محمد نادر سعیدی کا کہناتھا کہ طالبان کے حملوں کی وجہ سے اس علاقے سے عام شہری نقل مکانی کرتے ہوئے دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہو گئے ۔ادھر طالبان نے ایک بیان میں کہا کہ وہ وردک صوبہ کے سید آباد ضلعی ہیڈکوارٹر پر قابض ہو چکے ہیں لیکن مقامی حکام نے اس کی تردید کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…