ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ہوائی اڈوں پر چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا منصوبہ، اب مسافر حضرات کو شناختی کارڈ اور بورڈنگ پاس ہمراہ رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی،حیرت انگیز انکشافات

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی حکومت نے ہوائی جہاز سے سفر کرنے والے افراد کے لیے ہوائی اڈوں پر چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب مسافر حضرات کو شناختی کارڈ اور بورڈنگ پاس ہمراہ رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارت میں سول ایوی ایشن کی منسٹری نے بتایا کہ اس منصوبے پر عمل کا آغاز آئندہ برس سے کیا جائے گا۔

اس منصوبہ دراصل بھارت میں ہوائی سفر کرنے والے افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر بنایا گیا ہے۔وزارتِ سول ایوی ایشن کے سیکرٹری راجیو نائن چوبے نے ایک بیان میں کہاکہ اندرون ملک سفر کرنے والے مسافر حضرات انتخاب کر سکیں گے کہ آیا وہ شناختی دستاویزات کے بغیر بایؤ میٹرک طریقے سے چیک ان کرانا چاہتے ہیں۔یہ منصوبہ تقریباویسا ہی ہے جیسا کہ امریکی فضائی کمپنی ڈیلٹا ایئر لائن نے گزشتہ ماہ متعارف کراتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ مسافروں کی شناخت کے لیے اٹلانٹا میں بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کرنے والی ہے۔برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئر ویز نے بھی حال ہی میں اورلینڈو، نیویارک اور میامی کے ہوائی اڈوں پر صارفین کی شناخت کے لیے بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ہے۔بھارتی مجوزہ منصوبے کے تحت مسافر حضرات کی شناخت کے لیے ایئر پورٹ میں داخل ہونے سے لے کر بورڈنگ اور چیک ان کے مراحل کی تصاویر لی جائیں گی۔ حکومتی بیان میں کہا گیا کہ اس ٹیکنالوجی کو سب سے پہلے فروری 2019 میں بنگلور اور حیدر آباد کے ہوائی اڈوں پر متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے بعد اپریل سن 2019 تک چند دیگر ایئر پورٹوں پر بھی یہ نظام نصب کیا جائے گا جن میں کولکتہ، وارانسی، پونے اور وجیا واڈا شامل ہیں۔دوسری جانب بنگلور ایوی ایشن ویب سائٹ کے ایڈیٹر دیویش اگر وال نے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے حوالے سے مسافروں کے ذاتی کوائف کو تحفظ فراہم کیے جانے پر سوال اٹھتے ہیں۔ بھارت میں گزشتہ ایک عرصے کے دوران فضائی سفر کرنے والے افراد کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…