ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

حکومت ‘آئی ایم ایف’ کے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کیلئے تیار

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ معاشی استحکام اور شرح نمو کو بہتر بنانے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے تجویز کردہ اقدامات پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے، جو ممکنہ طور پر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کا سبب ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ‘آئی ایم ایف’ کے وفد اور پاکستانی حکام

کے مابین ایک ہفتے پر محیط حالیہ مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات مثلاً روپے کی قدر میں کمی، شرح سود میں اضافہ، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا اور مالیاتی سختی کا خیر مقدم کیا۔ تاہم آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستانی حکومت کے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ملک کو درپیش شدید مالی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایکسچینج فلیکسبلیٹی میں اصلاحات کے ساتھ مالی اور مانیٹری پالیسیوں میں سختی، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کے ساتھ ہونے والی اختتامی ملاقات میں آئی ایم ایف وفد نے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر پیداواری لاگت سے ہمکنار کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ کمپنیاں اضافی آمدنی کو کارکردگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے حکومت کے سامنے ایکسچینج ریٹ کے مکمل طور پر آزادانہ بہاؤ اور پالیسی ریٹ کو دگنا کرنے کے لیے اقتصادی بنیادوں پر مشتمل ایک نیا فنڈ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف نے حکومت کی جانب سے منی بجٹ میں پیش کردہ مالیاتی اقدامات کو بھی ناکافی قرار دیا اور مالی خسارہ 5.1 فیصد تک محدود کرنے کے لیے صوبائی آمدنیوں پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ وفد نے حکومت سے مزید سخت

اقتصادی اقدامات مثلاً آمدنی میں اضافہ اور یوٹیلیٹیز کی قیمتیں بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی تک آئی ایم ایف سے مالی مدد کے لیے باضابطہ درخواست کا فیصلہ نہیں کر سکی اور بظاہر اس فیصلے کو رواں ماہ کے اختتام تک موخر کردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان حکومت کے ابتدائی 100 دنوں میں خاص کر 14 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے قبل آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ ان کی سیاسی مہم

کے نعروں میں کشکول توڑنا بھی شامل ہے۔ دوسری جانب وزیر خزانہ اور وزیر اعظم کے مشیران اپنی اقتصادی سمجھ بوجھ کے بل بوتے پر ایک مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں اور ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فنڈ کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کے قریبی افراد کا موقف یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پی ٹی آئی کے منشور میں پیش کردہ حکومتی حکمتِ عملی کی نفی ہوگا، چنانچہ بہتر ہے کہ اس سلسلے میں دوست ممالک سے مدد حاصل کی جائے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…