ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

تمام پٹرول پمپس سروس سٹیشنز کو پانی کے میٹر لگانے اور پینے کے پانی کے نرخ بڑھانے کا حکم دیدیا گیا،بڑی تعداد میں ٹیوب ویل بند کرنے کی تیاریاں

datetime 17  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی) لاہور ہائیکورٹ میں صاف پانی سے سڑکوں کی دھلائی کیخلاف کیس کی سماعت، سیکرٹری ماحولیات ، ایم ڈی واسا سمیت دیگرافسران پیش ‘ عدالت نے شہرکے تمام پٹرول پمپس کیسروس سٹیشنز کو پانی کے میٹر لگانے اور واسا کو پینے کے پانی کے نرخ بڑھانے کے اقدامات کاحکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے سید کمال حیدر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواستگزار نے موقف اختیار کیا کہ صاف پانی سے سڑکیں دھوئی جارہی ہیں،

پانی کے تحفظ کے لیے متعلقہ محکمے موثر اقدامات نہیں کررہے،عدالت میں ایم ڈی واسا زاہد عزیز نے صاف پانی کے تحفظ، بارش کے پانی کے بچا اور پینے کے پانی کے ریٹس بڑھانے سمیت دیگر تجاویز پیش کیں ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی سروس اسٹیشن سے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔عدالت نے تمام متعلقہ محکموں کو صاف پانی کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ افسران اقدامات کریں کسی جگہ مشکل درپیش ہوتوعدالت کوآگاہ کیا جائے۔ عدالت نے بابر سہیل کو پانی کے تحفظ کے حوالے سے کیس میں عدالتی معاون مقرر کردیاعدالت کے استفسار پر پی ایچ اے کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کے پاس 263 ٹیوب ویل ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے بچا کے لئے کیوں نہ پہلے مرحلے میں دو سو ٹیوب ویل بند کردیے جائیں، عدالت نے اس حوالے سے پی ایچ اے سے رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے پٹرولیم ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور متعلقہ محکموں کے افسران کو صاف پانی کے بچا کے لئے تجاویز سمیت طلب کرتے ہوئے سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…