ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پی ایس او میں پٹرولیم مصنوعات کی سٹوریج کے نام پر کروڑوں کی کرپشن و مالی بد عنوانی کا نیا سکینڈل سامنے آگیا،اہم سیاسی خاندان کی کمپنی کو ٹھیکے دیئے گئے

datetime 17  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)پی ایس او میں پٹرولیم مصنوعات کی سٹوریج کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن اور مالی بد عنوانی کا نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے۔ پی ایس او افسران نے اپنی مصنوعات کی سٹوریج کا ٹھیکہ پاکستانی ہاؤس انٹر نیشنل لمیٹڈ نامی کمپنی کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر دے رکھا ہے اور سالانہ 8کروڑ روپے بھی ادا کیے جارہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کمپنی کا مالک ایک سیاسی خاندان ہے جس نے سیاسی اثرو رسوخ پر یہ ٹھیکہ حاصل کیا تھا ۔

پی ایس او کے ٹینڈرپر اس کمپنی نے 225روپے فی میٹرک ٹن ریٹس کی بولی دی جو متعلقہ افسران نے بغیر تحقیقات کے منظور کرلی اور ٹھیکہ کمپنی کو دے دیا ۔ قواعد کے مطابق پی ایس او کو دوبارہ ٹینڈر دے کر مزید کمپنیوں سے دلچسپی طلب کرلی لیکن کرپٹ افسران نے کمپنی کو منظور کرے 8کروڑ بھی جاری کردئیے۔ ٹینڈر میں 55ملین کا ٹھیکہ ظاہر کیا گیا لیکن ادائیگی پہلی قسط کے طور پر 135ملین کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او انتظامیہ نے پاور کمپنی ساؤتھرن الیکٹرک کمپنی سے فرنس آئل کی مد میں ساڑھے تیرہ کرروڑ روپے بھی وصول نہیں کرسکی ہے۔ پی ایس او افسران کی ملی بھگت سے ریکوری کا یہ مقدمہ عدالت عالیہ سندھ میں کئی سال سے لٹکا ہوا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایس او انتظامیہ نے 2018پٹرول پمپوں سے 53کروڑروپے کے بقایا جات ہیں جبکہ کرپٹ افسران نے وصول کرنے کی بجائے یہ ریکوری یعنی عدالت عالیہ اسلام آباد کے رحم و کرم پر چھوڑی رکھی ہے اور ریکوری لٹکی ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مشاورت کے نام پر وزارت پٹرولیم کے ریٹائرڈ افسران نے بھاری تنخواؤں پر پی ایس او میں ملازمتیں حاصل کررکھی ہیں۔ سابق ڈی جی آئل بھی ملازمت حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ اس حوالے سے پی ایس او کے ایم ڈی جواب دینے سے قاصر ہیں کیونکہ نیب حکام حاضر سروس ایم ڈی پی ایس او کی کرپشن پر تحقیقات کرنے میں مصروف ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…