ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

افغان سرزمین پر بھارتی فوجیوں کی موجودگی ؟افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے حیرت انگیز وضاحت کردی

datetime 15  ستمبر‬‮  2018 |

کابل (آن لائن)افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ انتہا پسند اور دہشتگرد عناصر ہر صورت حکومت میں آنا چاہتے ہیں یہ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتے ،پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کو یہ سبق یاد کرلینا چاہیے ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں چیلنجز ہیں مل کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا ،بھارت کی طرف سے دفاع سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعاون بہت مددگار ثابت ہوا ہے،

لیکن افغان سرزمین پر بھارتی فوجیوں کی موجودگی پر کبھی بات چیت نہیں ہوئی،طالبان، افغان حکومت سے بات نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر وہ جمہوری عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ان کا خیر مقدم کریں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو کے دوران عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے لیے کو یہ سبق لینا چاہیے کہ انتہاپسند اور دہشت گرد عناصر طویل مدت میں کسی بھی ملک کے مفاد میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔ایسے عناصر اپنی حکومت چاہتے ہیں اور وہ بالآخر کسی بھی ملک میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔’انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نے پاکستان کا وزیر اعظم بننے کے بعد کہا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں، ہم ان کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں چیلنجز ہیں، لیکن ہمیں امید ہے کہ ہم مل جل کر کام کر کے ان کا مقابلہ کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے دونوں طرف سے مخلصانہ تعاون ضروری ہے۔’بھارتی فوجیوں کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ‘بھارت کی طرف سے دفاع سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعاون بہت مددگار ثابت ہوا ہے، لیکن افغان سرزمین پر بھارتی فوجیوں کی موجودگی پر کبھی بات چیت نہیں ہوئی۔’افغان چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ ان روابط کا مقصد طالبان پر افغان حکومت سے بات کرنے کے لیے زور ڈالنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ’طالبان، افغان حکومت سے بات نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر وہ جمہوری عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو ہم ان کا خیر مقدم کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…