ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

چنگ چی رکشے چلانے کے فیصلے کی خلاف ورزی پر سندھ حکومت کو جرمانہ،اگر حکم پر عمل نہ ہوا تو کتنے لوگ نوکری سے جائیں گے؟عدالت نے خبردار کردیا

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(اے این این)سپریم کورٹ میں کراچی میں چنگ چی رکشے چلانے کے فیصلے کی خلاف ورزی پر سندھ حکومت پر 30 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہمارے حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو سندھ کے سیکرٹری ٹرانسپورٹ سمیت دس لوگ نوکری سے جائیں گے۔عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں چنگ چی ایسوسی ایشن کی سندھ کے ٹرانسپورٹ سیکرٹری کیخلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت میں سندھ کے سرکاری وکیل نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ سندھ کی عدالتی فیصلے پر عمل کیلئے اٹھائے گئے

اقدامات کی رپورٹ پیش کی۔ بنچ نے رپورٹ دیکھنے کے بعد مسترد کر دی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سندھ حکومت عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہے، کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔جسٹس گلزار احمد نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ دو ہزار نئی بسیں منگوائی گئی تھیں وہ کہاں گئیں؟ سمندر نگل گیا یا زمین کھا گئی، ساری بسیں بیچ کر کھا گئے۔ سندھ کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عدالتی سوالات کے جوابات نہ دے سکے جس پر ان کی سخت سرزنش کی گئی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عملدرآمد نہ ہوا تو سیکرٹری ٹرانسپورٹ سمیت دس لوگ نوکری سے جائیں گے۔سپریم کورٹ نے دو ہفتے بعد عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ، ڈی آئی جی ٹریفک اور سیکرٹری ایکسائز کو بھی طلب کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…