ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

کلثوم!آنکھیں کھولو، بائو جی!!نواز شریف آخری بار کلثوم نواز سے ملاقات کے وقت انہیں بلاتے وقت ’’بائو جی‘‘کیوں کہتے رہے، اس لفظ کے پیچھے کیا کہانی ہے؟شریف خاندان کے انتہائی قریبی عطا الحق قاسمی نےبتا دیا

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف ادیب ، کالم نگار، مزاح نگار عطا الحق قاسمی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ بیگم کلثوم نواز کے بارے میں کچھ لکھنا آسان کام نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا انتقال عام حالات میں نہیں ہوا، ان کےشوہر پاکستان کی جیل میں تھے، ان کی صاحبزادی اور داماد بھی جیل کی کوٹھڑیوں میں بند تھے۔ ان کے شوہر میاں نواز شریف اور فیملی کے دیگر افراد جب لندن میں تھے وہ روزانہ صبح اسپتال پہنچتے تھے اور شام کو بیگم صاحبہ سے بات کئے

بغیر واپس آ جاتے تھے کہ وہ کوما کی حالت میں تھیں۔وہ منظر کسی بھی اہل دل کے لئے رلا دینے والا ہے جب آخری دن پاکستان جیل آنے کے لئے میاں نواز شریف اپنی بیگم سے بات کرنے کے لئے کہتے ہیں۔’’ کلثوم، میں بابو جی، کلثوم، میں بابو جی‘‘ مگر وہ اس پر کوئی ریسپانس نہیں دیتیں۔ انڈیا خصوصاً لاہور اور امرتسر کے شہروں میں بیویاں اپنے شوہر کو اور بچے بھی اپنے والد کو ’’بابو جی‘‘ کہا کرتے تھے۔ نواز شریف چاہتے تھے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…