جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاک فوج کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش ناکام!وزیرستان میں جاں بحق نوجوان کا والد ساری حقیقت سامنے لے آیا،ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھی ردعمل جاری

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرستان میں جاں بحق ہونے والے نوجوان کی ہلاکت کے نام پر ملکی اداروں کے خلاف سازش کی ایک اور کوشش ناکام ۔ پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف چلائی جانے والی مہم سے جاں بحق نوجوان کے والد نے پردہ اٹھاتےہوئے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کر دیا۔ اس ویڈیو پیغام میں جاں بحق ہونے والے نوجوان  کے والد نے ہاتھ میں اپنے بیٹے مسعود خان کی تصویر پکڑے بتایا

کہ یہ میرا بیٹا مسعود خان ہے۔اس کی موٹر سائیکل کا رکشے کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہوا۔ یہ اس وقت موٹر سائیکل پر میرے پوتے کے ساتھ سوار تھا۔ ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں میرا بیٹا مسعود خان موقع پر وفات پا گیا۔ میرے پوتے کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ پشاور ہسپتال میں زیر علاج ہے۔انہوں نے کہا کہ رکشے والا ہمارے گاؤں کا رہنے والا ہے۔ پولیس اس حادثے کی ایف آئی آر کاٹ چکی ہے۔ سکیورٹی فورسز کو بدنام کرنے اور اس حادثے کا فائدہ اٹھانے کے لیے کچھ لوگ سرگرم ہیں۔حادثے میں رکشے اور ڈرائیور کی حالت اور حادثے کی تمام تر ویڈیو موجود ہیں۔ مسعود خان کے والد نےکہا کہ ہمارا دل دکھانے اور اس حادثے سے فائدہ اٹھانے والی تنظیموں سے گزارش ہے کہ نہ وہ ہمیں بدنام کریں ، نہ ہی خدارا فوج کو بدنام کریں اور نہ کسی اور کو۔انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ خدا کے لیے ایسی تنظیم اپنا مقصد کہیں اور جا کر پورا کرے اور ہمیں چھوڑ دے۔مسعود خان کے والد کی اس ویڈیو پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک پیغام جاری کیا اور کہا کہ آرمی کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرنے والوں کو شرم آنی چاہئیے۔ ایسی قوتوں کو صدمے میں ہونے کے باوجود مسعود خان کے بہادر والد نے بے نقاب کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…