اسلام آباد(نیوز ڈیسک) زیتون کو وڑن 2025 کے تحت میں پاکستان کی سب سے بڑی پیداواری فصل بنانے کیلیے عملی طور پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے دوران پچاس ہزار پودے لگائے جائیں گے۔
ماسوائے سندھ کے ملک بھرمیں25 لاکھ ایکڑاراضی پرزیتون کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ ملک بھرمیں زیتون کے پھل سے مصنوعات تیار کرنے کیلیے دوکمپنیاں کام کررہی ہیں جبکہ مزید تین کمپنیوں نے رجوع کیاہے۔ زیتون کے پھل سے تین طرح کے آئل، مٹھائی، آچار، جام، جیلی، بسکٹ، قہوہ سمیت دیگرمصنوعات بنائی جارہی ہیںجومارکیٹ میں موجود ہیں۔ ان خیالات کااظہار پروجیکٹ برائے زیتون کی ترقی کے نیشنل پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر احمد نے ایکسپریس سے خصوصی گفتگوکے دوران کیا۔
ڈاکٹر منیر احمد کی خصوصی معاونت کرتے ہوئے ڈاکٹر ناصر محمود چیمہ نے ایکسپریس کو بتایاکہ پاکستان میںاس وقت پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے بعدسب سے بڑابل ہم ایڈیبل آئل کی امپورٹ پرخرچ کرتے ہیںجواس وقت 2 کھرب 25 ارب 69 کروڑ 61 لاکھ روپے ہے، جو ایڈیبل ا?ئل امپورٹ کیا جاتاہے اس میں سویا بین، پام آئل اور دیگر شامل ہیں، سویابین کی درآمد پر4ارب 56 کروڑ5 لاکھ،پام ا?ئل کی درا?مد پر 2 کھرب 11 ارب،82 کروڑ،62 لاکھ روپے جبکہ دیگر پر 9 ارب 30 کروڑ93 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ناصر نے بتایاکہ ہمارے ہاںزیتون کی کاشت کاسلسلہ تین سال پہلے اٹلی کے تعاون سے شروع کی گیاہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ماسوائے سندھ کے ملک بھر میںزیتون کی کاشت کیلیے جوڈیٹا تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق 25 لاکھ ایکڑرقبے پراس کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ اس کی کاشت کیلیے ضروری ہے سب سے موزوںجگہ پوٹھوہار ہے،جہاں بیروزگاری بھی ہے۔ سندھ میں پیداوارنہ ہونے کے متعلق بتایا کہ مارچ میں اس کی فصل تیارہوتی ہے اوراس وقت سندھ میںدرجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈسے تجاوز کرجاتاہے جس سے اس پودے کا پھل خراب ہوجاتا ہے۔
اس وقت اس کی کاشت کامیابی سے پنجاب، بلوچستان، فاٹا، خیبرپختونخوا،اوراب آزاد کشمیر میں اس کے مثبت نتائج کے باعث وہاں کاشت کیاجائیگا۔ اس وقت پاکستان میں زیتون کی درآمدکابل 3.5 ملین ڈالر ہے، زیتون کی کاشت کیلیے عالمی مارکیٹ سے پودے منگوائے جارہے ہیں۔ اس وقت پچانوے ہزارپودے منگوائے گئے ہیں جو اٹلی، یونان، اسپین، تونیسیا سے ٹینڈرکے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔ 4 سال کے بعدان کی امپورٹ بھی بندکردی جائے گی کیونکہ ان کی ڈرافٹنگ کیلیے یہاں پر کام شروع کردیا گیا ہے جوچار سال میں مکمل ہوجائیگا۔ ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ فی ہیکٹراسکی پیداوار سے کاشتکار کو6 لاکھ 30 ہزارروپے حاصل ہوں گے۔
ایک پودا سال میںدوبارپھل دیتا ہے، ایک مارچ اپریل اور دوسرا اگست ستمبرمیں،اوراس پودے کی عمرنوسوسال ہے جس کامطلب ایک پودادس پشتوں تک پیداوارفراہم کرتا رہیگا۔ ڈاکٹر ناصر نے بتایاکہ جوزیتوں پاکستان میں پیدا ہورہا ہے اس کا معیار عالمی درجہ بندی کے مطابق ہے جس کاٹیسٹ ہم نے اپنی لیبارٹریوں سے کروایا ہے جو آئی ایس اوکے معیار کے مطابق ہیں۔ پی اے ا?رسی کی پلیٹ فارم سے اس کاشت میں جومعاونت کی گئی ہے اس کی مثال نہیں ہے، کاشتکاروں کی پودے مفت تقسیم کیے گئے ہیں جوسلسلہ جاری ہے۔
زیتون کو ملک کی سب سے بڑی فصل بنانے کیلیے عملی کام کا آغاز
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
وزیرپیٹرولیم کاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
دنیا کا سب سے بڑا غار
-
ایرانی ریال خریدنے والے خوش، کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
-
برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان
-
سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
پاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کر دی
-
اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے
-
ثانیہ اشفاق کے عماد وسیم پر سنگین الزامات، عماد کا سابقہ اہلیہ کو انتباہ
-
سرگودھا: بااثر افراد کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
-
مری ایکسپریس وے پر مسافر وین مکمل جل گئی
-
معطل خاتون افسر کے گھر سے کروڑوں روپے نقد، ہیرے اور سونا برآمد
-
حکومت نے ڈیزل اور پیٹرول پر لیوی میں اضافہ کردیا
-
سرگودھا،8سالہ بچی کیساتھ جسم پرتشدد کے نشانات اور ہڈی ٹوٹ جانے کے انکشافات ،تفتیش میں تیزی آ گئی
-
مون سون کی آمد، ملک کے مختلف علاقوں میں یکم جولائی سے بارشوں کی پیشگوئی



















































