بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

عام انتخابات 2018،دھاندلی وہ بھی کیسے؟پولنگ سٹیشنوں پر کیا کچھ ہوتا رہا؟شیر ، تیر اور بلے کی پرچی لیکر آنیوالے ووٹرزکیساتھ پولنگ سٹاف کیا کام کرتا تھا؟ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 26  جولائی  2018 |

لاہور(این این آئی)ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران کچھ مقامات پر پولنگ اسٹاف ایک مخصوص سیاسی جماعت کی طرف جانبدار تھے اور انہوں نے دوسرے پارٹی کے اسٹال سے پرچی حاصل کرنے والے ووٹرز کو کمزور وجوہات کی بنیاد پر واپس بھیج دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایچ آر سی پی کے مبصرین کے اعداد و شمار پر مشتمل ابتدائی

رپورٹ میں کہا گیا کہ کم از کم ایک مثال ایسی ہے جس میں خواتین ووٹرز نے بتایا کہ ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ کسے ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہیں ٗاس کے علاوہ کمیشن کو مختلف علاقوں سے یہ شکایات بھی موصول ہوئی کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔انسانی حقوق کے ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ اس طرح کے حالات قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے لہٰذا امید ہے کہ اس طرح کی معاملات کو فوری طور پر شفافیت کے ساتھ حل کیا جائیگا۔ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق انتخابات والے دن کمیشن کی نگران ٹیم نے قومی اسمبلی کی 67 نشستوں کا مشاہدہ کیا، ان نشستوں میں 12 بلوچستان، 14 خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں، 21 پنجاب اور اسلام آباد اور 20 سندھ سے تھیں۔مجموعی طور پر ایچ آر سی پی نے مشاہدہ کیا کہ الیکشن کمیشن پاکستان ( ای سی پی ) کی مجموعی کارکردگی کافی حد تک توقعات کافی رہی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیشن نے اپنا محکمہ جاتی کام اچھے طریقے سے انجام دیا جبکہ سیاسی مواد میں ان کا کام توقعات سے کم رہا ٗ اس کے علاوہ پولنگ اسکیمیں غیر تسلی بخش تھی اور لاہور کنٹونمنٹ کے مختلف ووٹرز کو یہ نہیں معلوم تھا کہ انہوں نے کہا ووٹ ڈالنا ہے۔ایچ آر سی پی کے مطابق بہت سے پولنگ اسٹیشن ایک ساتھ بنائے گئے تھے لیکن وہ ووٹرز کی تعداد کے حساب سے بہت چھوٹے تھے، جس کے نتیجے میں

پورے دن پولنگ کا عمل سست روی کا شکار رہا ٗاس کے علاوہ مختلف کیسز میں غیر تربیت یافتہ عملہ بھی دیکھا گیا۔اس کے علاوہ ایچ آر سی پی کو پریزائڈنگ افسر کی جانب سے شکایت بھی موصول ہوئی کہ اس نے رات بھر پولنگ اسٹیشن میں گزاری تاہم اسے سرکاری طور پر اپنے ساتھیوں کے لیے کھانے کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق انتخابات کے دوران متعدد پولنگ اسٹیشن چھوٹے

اور ہوا دار نہیں تھے جبکہ کچھ مقامات پر پنکھے بھی موجود نہیں تھے۔انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ کمیشن اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ ایک ٹاسک دینے کے بعد الیکشن کمیشن اسٹاف کو اس کو بہتر طریقے سے نبھانا چاہیے تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…