منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی واحد جیل جہاں لوگ خود جانے کی خواہش کرتے ہیں اور وہاں پر ایک رات قیام کرنے کا کرایہ 3 لاکھ ڈالر ہے! حیرت انگیزانکشافات

datetime 5  جولائی  2018 |

کیپ ٹاؤن(نیوز ڈیسک)جنوبی افریقی حکومت نے نیلسن منڈیلا کی جیل کو نیلا م کرنے کا فیصلہ کر لیا، تاریخی قید خانے میں ایک رات قیام کرنے کا کرایہ 3 لاکھ ڈالر مختص کیا ہے،جیل کے 8 فٹ لمبے تاریخی بیرک کو نیلسن منڈیلاکی 100ویں سالگرہ کے موقع پر خیراتی اداروں کے لیے فنڈ جمع کرنے سلسلے میں نیلام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی افریقہ کے حکام نے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی جیل کو ان کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر نیلام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق رابن نامی جزیرے پر واقع جیل جس میں جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر نیلسن منڈیلا نے 18 برس گزارے تھے، جنوبی افریقی حکام نے اس تاریخی قید خانے میں ایک رات قیام کرنے کا تین لاکھ ڈالر کرایہ مختص کیا ہے۔جنوبی افریقہ کے مشہور ہوٹل سلپ آٹ کی انتظامیہ کے مطابق نیلسن منڈیلا کی جیل کا کرایہ 3 لاکھ ڈالر اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ متعدد خیراتی اداروں کے لیے رقم جمع کی جاسکے۔خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے پہلے جمہوری سیاہ فام صدر کو کیپ ٹان کے رابن نامی جزیرے پر بنائی گئی جیل میں 27 سال تک قید میں رکھا گیا تھا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جیل کے 8 فٹ لمبے تاریخی بیرک کو نیلسن منڈیلاکی 100ویں سالگرہ کے موقع پر خیراتی اداروں کے لیے فنڈ جمع کرنے سلسلے میں نیلام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کی جیل میں قید افراد کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے نیلسن منڈیلا کی جیل کو نیلام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ قیدیوں کی تعلیم کے لیے رقم جمع کی جاسکے۔جنوبی افریقہ کے سلپ آٹ ہوٹل کی ترجمان کا نیلسن منڈیلا کی جیل کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا ہے کہ مذکورہ قید خانے کو صرف ایک رات فنڈز جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا یا نہیں۔خیال رہے کہ1962 میں نیلسن منڈیلا کو موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے جرم میں رابن نامی جزیرے پر واقع جیل میں قید کیا گیا تھا۔ جہاں انہوں نے 27 برس قید میں گزارے اور 1990 میں رہائی پائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…