منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جسے اللہ رکھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معجزہ یا کچھ اور ڈیڑھ سال قبل سمندر میں ڈوب جانے والی خاتون بے ہوش حالت میں بازیاب

datetime 4  جولائی  2018 |

جکارتہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیڑھ سال قبل سمندر میں ڈوب جانے والی خاتون بے ہوش حالت میں بازیاب کر لی گئی، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشین میڈیا میں ایک ناقابلِ یقین خبر گردش کررہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 18 ماہ قبل سمندر کی لہروں میں گم ہو جانے والی ایک خاتون عین اسی جگہ بے ہوشی کی حالت میں ملی ہے، مبینہ طور پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ

خاتون اسی لباس میں ملی ہے جو اس نے ڈیڑھ سال قبل پہنا ہوا تھا۔ 52 سالہ نننگ سونارش مغربی جاوا میں سوکابومی کے مقام پر سائٹیپس ساحل پر موجود تھی کہ ایک تیز لہر اس کو سمندر میں لے گئی۔ اس وقت اس ڈوبتی ہوئی خاتون نے چیخ کر اور ہاتھ ہلاکر مدد چاہی لیکن وہ پانی میں ڈوب گئی، غوطہ خوروں نے ایک ہفتے بعد ایک خاتون کی لاش ڈھونڈ نکالی جو بہت بری حالت میں تھی، تاہم نننگ کے اہلِ خانہ نے لاش کو دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ سونارش کی لاش نہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خاتون 8 جنوری 2017 کو سمندر میں ڈوب گئی تھی، دوسری جانب خاتون کے اہلِ خانہ کو یقین تھا کہ نننگ زندہ ہیں اور پورا گھرانہ پرامید تھا کہ وہ زندہ مل جائیں گی، رپورٹ کے مطابق اب سے چند روز قبل لڑکی کے چچا نے ایک خواب دیکھا کہ نننگ اسی ساحل پر موجود ہے جہاں سے وہ غائب ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہیں بار بار یہ خواب دکھائی دیا جسے انہوں نے قدرت کا ایک اشارہ قرار دیا۔ اس کے بعد 30 جون بروز ہفتہ پورا خاندان اسے ڈھونڈنے کے لیے ساحل پر پہنچ گیا اور صبح چار بجے انہیں ایک خاتون دکھائی دی جو مٹی کے ڈھیر میں بے ہوش پڑی ہوئی تھی اس نے ڈوبتے وقت کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس نے سیاہ پتلون اور پھولوں والی پیلی شرٹ پہن رکھی تھی تاہم نننگ کی حالت بہت نازک تھی جسے گھر والوں نے فوری طور پر اٹھایا اور ہسپتال میں داخل کیا اور اب وہ تیزی سے روبہ صحت ہے، خاتون کے اہلِ خانہ نے اسے خدا کا ایک معجزہ قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…