منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عوام فاقہ کشی پر مجبور ! ایران کی شام پر تیل کی نوازشات جاری، مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ عوام نے ایرانی حکومت سے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 28  جون‬‮  2018 |

تہران(نیوز ڈیسک) ایرانی عوام فاقہ کشی پر مجبور ہے جب کہ ایران کی شام پر تیل کی نوازشات جاری ہیں، ایران اسد حکومت بچانے کے لئے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے، ایران سبسیڈی اسد حکومت کی بجائے اپنی عوام کو فراہم کرے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران میں مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ عوام معاشی استحصال کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور دوسری طرف ایرانی حکومت شام میں اسد رجیم کو بچانے کے لیے انتہائی کم قیمت پر اسے تیل فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایران نے گذشتہ سال کے 315 ایام میں شام کو 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا تیل فروخت کیا، یوں دمشق کو 60 ڈالر فی بیرل کے حساب سے تیل فروخت کیا گیا۔ٹینکر ٹریکرزکی ررپورٹ کے مطابق ایران نے گذشتہ ایک سال کے دوران اسد رجیم کو 47 لاکھ 31 ہزار 466 ٹینکر تیل فراہم کیا اور یہ تیل پانچ مراحل میں شام سے دمشق پہنچایا گیا۔ویب سائیٹ نے ٹوئٹر پر پوسٹ ایک بیان اور تصایر میں ایرانی آئل ٹینکروں کو شام جاتے دکھایا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحری جہاز کا عملہ شام کے قریب پہنچتے ہی AIS بند کردیتا تھا۔ایرانی رجیم کی جانب سے شام کو کم نرخوں پر تیل کی فراہمی کی خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب دوسری جانب ایران میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی استحصال کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کو جو سبسڈی شام کو فراہم کئے جانے والے تیل پر فراہم کی جا رہی ہے وہ اپنے عوام کو دی جانی چاہیے تھی تاکہ ان کے معاشی حالات کو بہتر بنایا جاسکتا۔ایران شام کو نہ صرف تیل فراہم کررہا ہے کہ اسد رجیم کے اقتدار کو بچانے کے لیے 2012 سے پاسداران انقلاب اور دیگر جنگجوں کی مدد دمشق کو بچانے کے لیے کوشاں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق شام میں ایرانی جنگجوں کی تعداد 70ہزار سے زائد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…