جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

سیاستدان حضرات ہوشیار باش، ووٹ مانگنے پر استقبال اب پھولوں کے ہار سے نہیں بلکہ جوتوں کے ہار سے کیا جائیگا،عوام کا فیصلہ

datetime 26  جون‬‮  2018 |

بھوپال(آئی این پی)بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں سیاستدانوں کا استقبال جوتوں کے ہار سے کیا جائے گا، نیتاؤں کی سرد مہری اور وعدے وفا نہ کرنے پر بھوپال کی عوام نے یہ انوکھا فیصلہ کیا، سیاستدان صرف ووٹ کے لئے آتے ہیں بعد میں عوام کی کوئی فکر نہیں کرتے،ووٹ مانگنے پر ان کا استقبال جوتوں کے ہار سے کیا جائیگا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق عموما مقامی رہنماوں کے استقبال کیلئے علاقے کے لوگوں کو پھول نچھاور کرتے ہوئے

دیکھا گیا لیکن چپلوں کے ہار سے نیتاؤں کا استقبال کرنا شاید ہی سنا ہوگا۔مدھیہ پردیش کے بھوپال میں کولار علاقے کے اوم نگر میں نیتاوں کے استقبال کیلئے لوگوں نے جوتوں کا ہار تیار کیا۔ دراصل مانسون سے قبل شہریوں کی سہولتوں کیلئے سیاسی پارٹیوں کے رہنماوں نے بڑے بڑے وعدے کئے تھے مگر ان نیتاوں کی سردمہری اور وعدہ وفا نہ کرنے پر علاقے کے لوگوں نے پرانے جوتوں سے ہار تیار کرکے گھروں کی چھت پر لٹکا دیا گیا۔ مقامی تاجر راجیش مشرا نے بتایا کہ ابھی صرف ہلکی پھلکی بارش سے علاقے کا حال برا ہوگیا ہے۔ انہوں نے بھوپال میونسپل کارپوریشن اور نیتاوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنما صرف الیکشن کے زمانے میں یہاں آتے ہیں اور ووٹ مانگ کر چلے جاتے ہیں اور علاقے کی ترقی کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ علاقے میں رہنے والے گنیش بگھیل نے کہا کہ سوسائٹی میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے ۔سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، جگہ جگہ گڑھے پڑ چکے ہیں ۔ ہم نے میونسپلٹی کے اہلکاروں اور افسران سے شکایتیں کیں ، وارڈ ممبران سے بات چیت کی مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس کے بعد علاقے کے لوگوں نے بطور احتجاج جوتوں کا ہار تیار کررکھا ہے جیسے ہی کوئی نیتا ، لیڈر یا پارٹی رہنما ووٹ مانگنے آئیں گے ان کا استقبال انہی جوتوں کے ہار سے کیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…