منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے کیلئے بھارتی شہری کی انوکھی مہم،اُڑتے جہاز میں ایسا کام شروع کردیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 25  جون‬‮  2018 |

ممبئی(نیوزڈیسک) ایک بھارتی شہری نے فلائٹس کے دوران ایئر لائنز کا بچا ہوا کھانا جمع کرنا شروع کردیا ہے، جو وہ ضرورت مندوں میں بانٹ دیتے ہیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ممبئی کے رہائشی وشاب مہتامی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ کس طرح انہوں نے فلائٹس کے دوران بچ جانے والا کھانا جمع کرنا شروع کیا۔مہتا نے لکھاکہ میں نے اپنی پوری زندگی میں متعدد مرتبہ جہاز میں سفر کیا ہے،

چاہے یہ شوقیہ ہو، کاروباری مقاصد کے لیے ہو یا تفریحی غرض سے، لیکن چند ماہ قبل ہی مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ فلائٹس کے دوران پیش کیا جانے والا کھانا ضائع کردیا جاتا ہے یا کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے۔وشاب مہتا کے مطابق اس کی وجوہات کچھ یہ ہوسکتی ہیں: کچھ لوگ پہلی مرتبہ جہاز میں سفر کرنے کی بنا پر اتنے شرمیلے ہوتے ہیں کہ وہ انگریزی بولنے والے جہاز کے عملے کو جواب بھی نہیں دے سکتے، کچھ لوگوں کو جہاز کا کھانا پسند نہیں آتا، لہذا وہ تھوڑا سا کھا کر باقی چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ کچھ کو اپنی صحت کا اتنا خیال ہوتا ہے کہ وہ جہاز میں پیش کیے گئے کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ایک دن مبمئی سے جے پور جاتے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کھانا ضائع نہیں کریں گے بلکہ وہ فلائٹ میں سے سارا کھانا جمع کرکے ضرورت مندوں کو دیں گے۔وشاب مہتا نے لکھاکہ جیسے ہی عملے نے کھانا سرو کیا تو میں نے درخواست کی کہ مجھے ایک خالی بیگ دے دیا جائے تاکہ میں ذاتی طور پر بچا ہوا کھانا جمع کروں، جس پر عملے نے کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھے رہیں، جب ہم کھانے کی ٹرے واپس لینے آئیں گے تو بچا ہوا کھانا بیگ میں جمع کرلیں گے اور اس طرح فلائٹ کے اختتام پر تقریبا 70 برگر بن، 50 مکھن کی ٹکیاں اور 30 چاکلیٹس بیگ میں جمع ہوچکی تھیں۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ جمع کیا گیا کھانا ان لوگوں میں تقسیم کیا گیا جو ایک وقت کا کھانا بھی نہیں کھاسکتے اور بھیک مانگ کر گزارا کرتے ہیں۔وشاب مہتا نے اپنی پوسٹ میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کھانا ضائع ہونے سے بچائیں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…