منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے قانون کی حکمرانی سے متعلق رینکنگ رپورٹ جاری کردی، پاکستان کی حیرت انگیز پوزیشن

datetime 24  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق عوام کے جان و مال کے تحفظ میں افغانستان کی صورتحال پاکستان سے بہتر ہے۔امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے قانون کی حکمرانی سے متعلق رینکنگ رپورٹ جاری کی ہے ٗرینکنگ 1 لاکھ 10 ہزار گھروں کے سروے کے بعد جاری کی گئی اور 113 ممالک میں 3 ہزار ماہرین نے سروے کیا، قانون کی حکمرانی کو 8 نکات پر طے کیا گیا ٗ

رینکنگ حکومتی اختیارت، کرپشن کا خاتمہ، شفاف حکمرانی، بنیادی حقوق، احتساب، عوام کے جان و مال کا تحفظ، دیوانی او فوجداری انصاف کے پیمانوں پر کی گئی۔رپورٹ کے مطابق قانون کی حکمرانی میں 113 میں سے پہلے 50 ممالک میں کوئی جنوبی ایشائی ملک شامل نہیں ٗ اس حوالے سے پاکستان کا 105 واں نمبرہے، قانون کی حکمرانی میں ڈنمارک پہلے، ناروے دوسرے اور فن لینڈ تیسرے نمبر ہے، قانون کی حکمرانی میں امریکا 19ویں، نیپال 58، سری لنکا کا 59 واں، بھارت کا 62 واں، چین 75 ویں اور افغانستان کا 111واں نمبر ہے۔رپورٹ کے مطابق کرپشن کی عدم موجودگی میں پاکستان کا 99 واں نمبر ہے، اوپن گورنمنٹ، حکومتی شفافیت میں پاکستان 80ویں، بنیادی حقوق میں 100واں جب کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں پاکستان سب سے آخر 113 ویں نمبر پر ہے۔عوام کے جان و مال کے تحفظ میں افغانستان کی صورتحال پاکستان سے بہتر ہے، ریگولیٹری احتساب میں پاکستان کا 105 واں نمبر ہے ٗ دیوانی مقدمات میں انصاف پر پاکستان 107 اور فوجداری مقدمات میں 81 واں نمبر ہے۔ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق عوام کے جان و مال کے تحفظ میں افغانستان کی صورتحال پاکستان سے بہتر ہے۔امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے قانون کی حکمرانی سے متعلق رینکنگ رپورٹ جاری کی ہے ٗرینکنگ 1 لاکھ 10 ہزار گھروں کے سروے کے بعد جاری کی گئی اور 113 ممالک میں 3 ہزار ماہرین نے سروے کیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…