جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

یورپ میں عوامیت پسندانہ اجانب دشمنی کے تیز پھیلاؤ پر تشویش ہے،کونسل آف یورپ

datetime 23  جون‬‮  2018 |

پیرس(انٹرنیشنل ڈیسک)یورپ میں غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف اور اجانب دشمنی پر مبنی سیاسی عوامیت پسندی کا تیز تر پھیلاؤ بہت زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ایسے رویوں کے پریشان کن پھیلاؤ کے خلاف تنبیہ یورپی کونسل کے ماہرین کے ایک کمیشن نے کی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کونسل آف یورپ کے ماہرین کے اس کمیشن نے یہ تنبیہ بھی کی کہ یورپ میں عوامی سطح پر اظہار رائے کے لیے عوامیت پسند سیاسی رہنماؤں اور ان کے حامیوں کی طرف سے نفرت آمیز زبان اور جذباتی بیانات کا استعمال بھی تشویش ناک حد تک زیادہ ہو گیا ہے۔کونسل آف یورپ کے ماہرین کے اس ادارے کا نام نسل پرستی اور عدم برداشت کے خلاف یورپی کمیشن ہے، جس نے جاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ کئی عوامیت پسند یورپی سیاستدانوں نے تارکین وطن کی یورپ آمد کو اپنے اپنے ممالک کے سماجی ڈھانچے اور سلامتی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ایسا کرتے ہوئے ان پاپولسٹ سیاستدانوں نے یہ بات قطعانظر انداز کر دی کہ ان کے ایسے بیانات کے بالکل برعکس اسی حوالے سے شواہد کی بنیاد پر سامنے آنے والے حقائق‘ کس طرح کے امور کی نشان دہی کرتے ہیں۔اس یورپی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کئی یورپی ممالک میں تارکین وطن اور ایسے دیگر مقابلتا کم محفوظ سماجی گروپوں کے بنیادی حقوق کی نفی کو جائز ثابت کرنے کی کاوشیں کرتے ہوئے سلامتی سے متعلق خدشات کو نعرہ بنا کر ایک ہتھکنڈے کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔نسل پرستی اور عدم برداشت کے خلاف یورپی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ بہت سے یورپی ممالک تو اپنے ہاں مہاجرین اور تارکین وطن کے بہتر سماجی انضمام کے لیے واقعی وسیع تر کوششیں کر رہے ہیں ۔جن میں رہائش، تعلیم اور روزگار جیسے شعبے بھی شامل ہیں۔ تاہم ساتھ ہی اس بات پر بھی غیر معمولی حد تک زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ یورپ میں تارکین وطن کی آمد کو روکنے کی ضرورت ہے۔پیرس میں اپنے ادارے کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کونسل آف یورپ کے اس کمیشن کے سربراہ ڑاں پال لیہنرز نے کہاکہ یورپی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانیے کو زیادہ متوازن اور حقائق پر مبنی بنائیں، لیکن ساتھ ہی اس امر کو بھی یقینی بناتے ہوئے کہ تارکین وطن کی آمد کے ایک منظم نظام کی مثبت اہمیت بھی نظر انداز نہ کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…