منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قلتِ آب سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کا ہنگامی منصوبہ اپنانے کا فیصلہ

datetime 21  جون‬‮  2018 |

اقوام متحدہ (انٹرنیشنل ڈیسک) پاکستان میں قلتِ آب کے پیش نظر اقوام متحدہ کا ’ڈیکیڈ آف ایکشن 28۔2018’ منصوبہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت کراچی، گوادر، پسنی، جیوانی، کیٹی بندر اور دیگر ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) کی جانب سے منظور شدہ پہلی نیشنل واٹر پالیسی کے حوالے سے منعقد اجلاس کا اہتمام پلاننک کمیشن نے کیا جس میں ملکی اور غیرملکی ماہرین نے شرکت کی۔

کانفرنس میں بتایا گیا کہ ‘پہاڑوں سے آنے والا پانی بھارت، افغانستان اور چین کے زیر استعمال ہے جس کے باعث پاکستان کو آئندہ برسوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوگا۔اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور مسلسل شہر کاری، صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ، کھانے کے اطوار میں تبدیلی کے باعث بھی پانی کے وسائل میں کمی آرہی ہے۔اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ کوئٹہ اور لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے جبکہ 43 میں سے 37 نہری علاقوں میں پانی بہت کم ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زیرِزمین پانی کا معیار مسلسل کان کنی کے باعث خراب ہو رہا ہے جبکہ زمین پر موجود پانی میں صنعتی فضلہ اور سیوریج کے پانی کے باعث زہریلا ہو چکا ہے۔متعلقہ حکام نے میں بتایا کہ خراب پانی کی وجہ عام طور پر ملیریا اور ٹائیفائیڈ بھی ہوتے ہیں لیکن اب ایسی اطلاعات ہیں کہ ضلع گجرانوالا اور بھاول نگر میں ہیپاٹائٹس تیزی سے پھیل رہا ہے۔علاوہ ازیں دریائے راوی اور ستلج جبکہ ملیر اور لیاری ندی سیوریج سے آلودہ ہے اور اسلام آباد کا تازہ پانی بھی مضر صحت ثابت ہو رہا ہے۔کانفرنس میں زور دیا گیا کہ کراچی اور گوادر میں پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سمندری پانی کو ٹریٹمنٹ پلانٹ سے قابلِ استعمال بنایا جائے۔اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ سولر انرجی کے ذریعے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے کیٹی بندر، ٹھٹھہ، بدین، پسنی، جیوانی میں ٹیکنالوجی کے ذریعے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…