جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

قلتِ آب سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کا ہنگامی منصوبہ اپنانے کا فیصلہ

datetime 21  جون‬‮  2018 |

اقوام متحدہ (انٹرنیشنل ڈیسک) پاکستان میں قلتِ آب کے پیش نظر اقوام متحدہ کا ’ڈیکیڈ آف ایکشن 28۔2018’ منصوبہ اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت کراچی، گوادر، پسنی، جیوانی، کیٹی بندر اور دیگر ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) کی جانب سے منظور شدہ پہلی نیشنل واٹر پالیسی کے حوالے سے منعقد اجلاس کا اہتمام پلاننک کمیشن نے کیا جس میں ملکی اور غیرملکی ماہرین نے شرکت کی۔

کانفرنس میں بتایا گیا کہ ‘پہاڑوں سے آنے والا پانی بھارت، افغانستان اور چین کے زیر استعمال ہے جس کے باعث پاکستان کو آئندہ برسوں میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوگا۔اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور مسلسل شہر کاری، صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ، کھانے کے اطوار میں تبدیلی کے باعث بھی پانی کے وسائل میں کمی آرہی ہے۔اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ کوئٹہ اور لاہور میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے جبکہ 43 میں سے 37 نہری علاقوں میں پانی بہت کم ہو چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زیرِزمین پانی کا معیار مسلسل کان کنی کے باعث خراب ہو رہا ہے جبکہ زمین پر موجود پانی میں صنعتی فضلہ اور سیوریج کے پانی کے باعث زہریلا ہو چکا ہے۔متعلقہ حکام نے میں بتایا کہ خراب پانی کی وجہ عام طور پر ملیریا اور ٹائیفائیڈ بھی ہوتے ہیں لیکن اب ایسی اطلاعات ہیں کہ ضلع گجرانوالا اور بھاول نگر میں ہیپاٹائٹس تیزی سے پھیل رہا ہے۔علاوہ ازیں دریائے راوی اور ستلج جبکہ ملیر اور لیاری ندی سیوریج سے آلودہ ہے اور اسلام آباد کا تازہ پانی بھی مضر صحت ثابت ہو رہا ہے۔کانفرنس میں زور دیا گیا کہ کراچی اور گوادر میں پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سمندری پانی کو ٹریٹمنٹ پلانٹ سے قابلِ استعمال بنایا جائے۔اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ سولر انرجی کے ذریعے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے کیٹی بندر، ٹھٹھہ، بدین، پسنی، جیوانی میں ٹیکنالوجی کے ذریعے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…