جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

افغان حکومت اور طالبان کے مابین طویل عرصہ تک جنگ بندی کرانے کیلئے ثالثی ،بڑی پیشکش کردی گئی

datetime 20  جون‬‮  2018 |

بانڈہ داؤدشاہ؍ کابل (این این آئی) افغان علماء کرام نے حکومت اور طالبان کے مابین طویل عرصہ تک جنگ بندی کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا نبھانے کی پیشکش کردی ہے ۔ بدھ کے روز دارالحکومت کابل میں جید افغان علمائے کرام اورمذہبی سکالروں کا ایک اجلاس ہوا ، اجلاس کے بعدصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علمائے کرام نے طالبان پر زور دیا کہ وہ حکومت کی طرف سے فائربندی کی پیشکش قبول کریں

اور افغان عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطرطویل عرصہ تک فائربندی کا اعلان کرکے حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں۔صوبائی کونسل کے ایک رکن اور جید عالم مولوی عطاء اللہ فیضان نے کہا کہ امن کسی بھی علاقے کی فلاح وبہبود اور ترقی کی ضمانت دیتا ہے اور افغان عوام امن کے لئے ترس رہے ہیں جس کے لئے اب وقت آگیا ہے کہ عملی اقدامات کئے جائیں۔ اْنہوں نے کہا کہ علمائے کرام حکومت اور طالبان کے درمیان ثالثی کے لئے تیار ہیں کیونکہ تین روزہ فائربندی سے ظاہر ہوا کہ پوری قوم اب امن اور استحکام چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ طالبان نے عیدالفطر کے موقع پر ملک میں 17 سال بعد پہلی مرتبہ مکمل فائربندی کا اعلان کیا تھا جبکہ افغان حکومت نے فائربندی میں دس روز تک توسیع کردی ہے اور طویل عرصہ تک جنگ بندی اور طالبان سے براہ راست مذاکرات کے لئے کوشاں ہے۔ ادھر تین روز فائربندی کے خاتمہ کے بعد طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز پر حملے تیز کئے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں خونریزی کے واقعات میں خطرناک حدتک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔  افغان علماء کرام نے حکومت اور طالبان کے مابین طویل عرصہ تک جنگ بندی کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا نبھانے کی پیشکش کردی ہے ۔ بدھ کے روز دارالحکومت کابل میں جید افغان علمائے کرام اورمذہبی سکالروں کا ایک اجلاس ہوا ، اجلاس کے بعدصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علمائے کرام نے طالبان پر زور دیا کہ وہ حکومت کی طرف سے فائربندی کی پیشکش قبول کریں اور افغان عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطرطویل عرصہ تک فائربندی کا اعلان کرکے حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…