منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت سے پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کے بعد افغانستان سے پاکستان آنے والا بھی پانی بند،اربوں ڈالرز سے کتنے ڈیم افغانستان میں بنائے جارہے ہیں؟انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 19  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کا پانی چوری کرنے سے روکا جائے اور اسکی آبی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے ۔افغانستان بھی بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی میں شامل ہو کر پاکستان کو صحرا بنانے کی گھناونی سازش میں شامل ہو گیا ہے جس کا تدارک کیا جائے۔

بھارت پاکستان کا پانی چوری کرنے کیلئے سینکڑوں ڈیم بنا رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے مابین 18.5 ملین ایکڑ فٹ پانی کی تقسیم کا فارمولا متوازن نہیں رہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔شاہد رشید بٹ نے ایک بیان میں کہا کہ عالمی بینک بھی غیر جانبدار نہیں رہا بلکہ ایک عالمی طاقت کے اشارے پر بھارت کا ہمنوا بنا ہوا ہے افغان حکومت پاکستان کے دشمن ممالک کی مدد سے سات ارب ڈالر کی لاگت سے مختلف مقامات پر ایک درجن ڈیم بنا رہی ہے جو پانچ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کے حامل ہونگے جس سے صوبہ خیبر پختوان خواہ اور فاٹا میں رہنے والی پختون آبادی بری طرح متاثر ہو گی۔ ان متنازعہ منصوبوں سے دریائے کابل کے پانی میں پاکستان کا حصہ سترہ فیصد کم ہو جائے گا جس سے عوام،صنعت اورزراعت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے ۔پشاور کے بیس لاکھ عوام سمیت ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان،شمالی وزیرستان اور کئی علاقوں کے عوام پینے اور زراعت کیلئے دریائے کابل کا پانی استعمال کرتے ہیں جبکہ ورسک ڈیم کی بجلی بھی اسی دریا کے پانی سے بنتی ہے جبکہ یہی دریا بیس سے اٹھائیس ملین ایکڑ فٹ پانی دریائے سندھ کو فراہم کرتا ہے۔اس پانی میں کمی سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا اس لئے افغانستان سے جلد از جلد پانی کی تقسیم کا منصفانہ معاہدہ کرنے پر غور کیا جائے جو دونوں ممالک کے مستقبل کے لئے بہت ضروری ہے جبکہ افغانستان بھارت کا آلہ کار نہ بنے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…