جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

اساتذہ ہڑتال نہیں کر سکتے، جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت

datetime 13  جون‬‮  2018 |

برلن (این این آئی)جرمنی کی اعلیٰ ترین عدالت نے چار اساتذہ کے ایسے مطالبات مسترد کر دیے ہیں کہ ان کو ہڑتال کرنے کی اجازت دی جائے۔ آئینی عدالت کے مطابق سرکاری عہدیداروں کو اسٹرائیک پر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چار جرمن اساتذہ نے اعلیٰ ترین عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں ہڑتال کرنے کی اجازت دی جائے لیکن کارلسروہے کے ججوں نے کہا ۔پبلک آفیشلز کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

جرمنی کی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایسے مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے کہ پبلک سیکٹر سے وابستہ اہلکاروں پر عائد ہڑتال کی پابندی کو نرم یا ختم کر دیا جائے۔جرمنی میں چار اساتذہ نے آئینی عدالت سے اس وقت رجوع کیا تھا، جب کام کے وقت کے دوران انہیں ہڑتال کرنے پر انضباطی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جرمن قوانین کے مطابق سرکاری اہلکار اپنے کام کے وقت کے دوران ہڑتال نہیں کر سکتے ہیں۔ تاہم ان اساتذہ نے اس قانون میں نرمی کی خاطر آئینی عدالت سے درخواست کر دی تھی۔اس کیس کو مقامی سطح پر کافی اہمیت حاصل تھی کیونکہ اگر عدالت ان اساتذہ کو ہڑتال کی اجات دے دیتی تو اس کے نتیجے سے ایک نیا بینچ مارک بن سکتا تھا۔ یوں جرمنی میں سول سروس سے وابستہ دیگر سرکاری اہلکار بھی اس عدالتی فیصلے کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے۔ان اساتذہ نے کارلسروہے میں واقع جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی تھی کہ بنیادی جرمن قوانین کے تحت انجمن سازی کی اجازت ہے اور یوں ملازمین کو ہڑتال کا قانونی حق بھی حاصل ہے۔ تاہم عدالت کے فیصلے کے مطابق سرکاری ملازمین پر ہڑتال کی پابندی جرمن آئین کے بنیادی قوانین سے متصادم نہیں ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ہڑتال کرنے کا حق حاصل ہونے سے سول سروس سیکٹر کے ڈھانچے میں چین ری ایکشن کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں پبلک سیکٹر کے بنیادی اصول متاثر ہوں گے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…