منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اساتذہ ہڑتال نہیں کر سکتے، جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت

datetime 13  جون‬‮  2018 |

برلن (این این آئی)جرمنی کی اعلیٰ ترین عدالت نے چار اساتذہ کے ایسے مطالبات مسترد کر دیے ہیں کہ ان کو ہڑتال کرنے کی اجازت دی جائے۔ آئینی عدالت کے مطابق سرکاری عہدیداروں کو اسٹرائیک پر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چار جرمن اساتذہ نے اعلیٰ ترین عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں ہڑتال کرنے کی اجازت دی جائے لیکن کارلسروہے کے ججوں نے کہا ۔پبلک آفیشلز کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

جرمنی کی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایسے مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے کہ پبلک سیکٹر سے وابستہ اہلکاروں پر عائد ہڑتال کی پابندی کو نرم یا ختم کر دیا جائے۔جرمنی میں چار اساتذہ نے آئینی عدالت سے اس وقت رجوع کیا تھا، جب کام کے وقت کے دوران انہیں ہڑتال کرنے پر انضباطی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جرمن قوانین کے مطابق سرکاری اہلکار اپنے کام کے وقت کے دوران ہڑتال نہیں کر سکتے ہیں۔ تاہم ان اساتذہ نے اس قانون میں نرمی کی خاطر آئینی عدالت سے درخواست کر دی تھی۔اس کیس کو مقامی سطح پر کافی اہمیت حاصل تھی کیونکہ اگر عدالت ان اساتذہ کو ہڑتال کی اجات دے دیتی تو اس کے نتیجے سے ایک نیا بینچ مارک بن سکتا تھا۔ یوں جرمنی میں سول سروس سے وابستہ دیگر سرکاری اہلکار بھی اس عدالتی فیصلے کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے۔ان اساتذہ نے کارلسروہے میں واقع جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی تھی کہ بنیادی جرمن قوانین کے تحت انجمن سازی کی اجازت ہے اور یوں ملازمین کو ہڑتال کا قانونی حق بھی حاصل ہے۔ تاہم عدالت کے فیصلے کے مطابق سرکاری ملازمین پر ہڑتال کی پابندی جرمن آئین کے بنیادی قوانین سے متصادم نہیں ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ہڑتال کرنے کا حق حاصل ہونے سے سول سروس سیکٹر کے ڈھانچے میں چین ری ایکشن کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں پبلک سیکٹر کے بنیادی اصول متاثر ہوں گے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…