ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

خوبرو حسینہ کی 16شادیاں،لڑکی کی بڑی عمر کے افراد میں دلچسپی ،شادی کس مقصد کیلئے کرتی؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 4  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)باپ بیٹی نے ملکر شادیوں کا کاروبار شروع کردیا،تحصیل عیسیٰ خیل کے علاقہ میانہ والا کی رہائشی شہناز دختر گل زمان  ذات موچی اب تک 16 شادیاں کر چکی ،متاثرین سامنے آگئے ۔تفصیلات کے مطابق کالا باغ کے علاقہ کچھ تندر خیل کے رہائشی محبوب خان نے بتایا کہ ان باپ بیٹی کا طریقہ واردات نہایت آسان ہے۔ اس کا باپ مختلف شہروں میں شادی کے خواہشمند بڑی عمر کے افراد کو ڈھونڈ کر کسی تیسرے آدمی

کے ذریعے ان تک پیغام پہنچاتا ہے کہ میانہ والا کے رہائشی گل زمان کے گھر اس کی بیٹی کا رشتہ موجود ہے، جو اس کی شادی کرنا چاہتا ہے۔یہ پیغام سن کر جب خواہشمند خاندان ان کے گھر رشتہ لے کر جاتا ہے تو وہ پہلی نظر میں ہی آنے والے رشتے کو پسند کر لیتا ہے اور لڑکی کو کنوارہ ظاہر کر کےپروگرام کے مطابق اڑھائی تین لاکھ روپے اور 5 تولہ زیورات دلہے سے لکھوا لیتا ہے اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کر کے بیٹی کو رخصت کر دیتا ہے۔ لیکن کچھ ماہ بعد ہی شہناز بی بی اپنےشوہر سے ناراض ہو کر اپنے سامان سمیت باپ کے گھر واپس آجاتی ہےاور پھر اس کا دوسری جگہ شادی کا پروگرام بنا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اب تک یہ حسینہ شادی کے نام پر مختلف شہروں کے 16 افراد کو لوٹ چکی ہے۔ جن میں سے ونجاری گلاخیل کا رہائشی غلام محی الدین ، ترگ کا رہائشی امیر محمد عرف کلی استادکمہار، سرکیہ عیسیٰ خیل کا رہائشی زبر نواز ، سلطان خیل کا رہائشی نور محمد مراثی پکوڑے والا، نور پور تھل خوشاب کا رہائشی لیاقت علی اور کچھ تندر خیل کالا باغ رہائشی محبوب خان شامل ہیں۔محبوب خان نے مزید بتایا  کہ ان لوگوں نے ایک گینگ بنا رکھا ہے جس میں انہوں نے  باقاعدہ ایک وکیل بھی رکھا ہوا ہے جو ان کے کیس لڑتا ہے ۔ محبوب خان نے مزید بتایا کہ جب میری

شہناز بی بی سے شادی ہوئی اور شک پڑنے پر میں نے اس کا الٹرا ساؤنڈ کروایا تو وہ شادی سے دو ماہ پہلے کی حاملہ نکلی۔محبوب نے پریس کانفرنس میں الٹراساؤنڈ رپورٹس اور مختلف لوگوں کے شہناز کے ساتھ نکاح نام دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اس قسم کے فراڈ مذہب اور قانون کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہیں اور یہ لوگ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ہیں ، انہوں نے چیف جسٹس، ڈی آئی جی پولیس پنجاب اور ڈی پی او میانوالی سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لے کر تفتیش کروائی جائے اور مجھ سمیت تمام متاثرین کو فوری انصاف دلوایا جائے ۔دوسری جانب شہناز اور ان کے والد  گل زمان کا موقف سامنے نہیں آسکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…