ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

نہ میٹرو چاہیے نہ اورنج لائن اور نہ ہی سڑکیں، کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیلئے دھماکہ خیز قدم اُٹھا لیا گیا

datetime 3  جون‬‮  2018 |

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی عوام کی طرف سے سوشل میڈیا پر ایک بھرپور مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس مہم کا نعرہ ڈیم بناؤ، پاکستان بچاؤ ہے۔ اس مہم میں شریک سوشل میڈیا صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں سڑکیں نہیں چاہئیں، نہ میڑو بس چاہیے اور نہ ہی اورنج لائن ٹرین چاہیے، پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو نئے ڈیم بنائے جائیں۔

اگر ملک میں کالا باغ اور دیگر ڈیم تعمیر نہ کیے گئے تو اگلے چند سالوں میں پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترسے گا۔پانی کی قلت اور بھارت کا پاکستان کی طرف بہنے والے دریاوں پر ڈیم تعمیر کرنا واقعی پاکستان کے لیے پریشان کن ہے۔ مزید اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان بھی بھارت کے تعاون سے، پاکستان کی طرف بہنے والے دریاوں پر ڈیم تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ بس یہ دیکھ کر لگتا ہے، جیسے ہر طرف سے پاکستان پر گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کے سبب دشمن کھلم کھلا جنگ کا اعلان تو نہیں کرتا مگر پاکستان کیلئے وہ مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے، واضح رہے کہ پاکستان میں تیزی سے پانی کی کمی واقع ہوتی جا رہی ہے ، پینے کا پانی تک نایاب ہوتا جا رہا ہے، ایک جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانی کی کمی ہوتی جا رہی ہے تو دوسری جانب بھارت پاکستان کا پانی نئے ڈیم بنا کر روکتا جا رہا ہے۔ پانی کے اس اہم مسئلے پر کوئی سنجیدہ نظر نہیں آ رہا ، پاکستان میں بننے والی زیادہ تر حکومتوں کی توجہ ترقیاتی منصوبے پر ہی مرکوز رہتی ہے، پاکستان میں بننے والی حکومتوں نے کبھی بھی مستقبل کی فکر کرتے ہوئے پانی کے مسئلے کے حل کیلئے سنجیدگی سے کوئی کام نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران ہر گزرتے دن کیساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین نے ڈیم بناؤ ، پاکستان بچاؤ کی مہم کا آغاز کیا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…