ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

نگران وزیر اعلیٰ اور صوبائی کابینہ کیلئے تحریک انصاف اور جمعیت العلمائے اسلام(ف) کا گٹھ جوڑ،وہ کام ہوگیا جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 2  جون‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے آنے والے الیکشن میں اے این پی کی جیت یقینی ہے ، گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں میڈیاکی تشہیر پر اربوں روپے خرچ کئے گئے جبکہ پی ٹی آئی نے سرکاری وسائل کو غلط بیانی کیلئے استعمال کیا ،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک کا الیکشن کمیشن کو خط پوائنٹ سکورنگ کیلئے تھا ورنہ اس طرح الیکشن قوانین میں تبدیلی کیسے لائی جا سکتی ہے ،

انہوں نے کہا کہ دوبارہ صوبے میں حکومت بنانے کے دعویدار تبدیلی والے نگران حکومت کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے درپے ہیں ،اور اپنے من پسند فرد کو لانے کیلئے آئین پاکستان کی روح کو پامال کر رہے ہیں،ملک کے آئین میں نگران سیٹ اپ کا طریقہ کار واضح ہے ، انہوں نے کہا کہ ہمارے اپوزیشن لیڈر آخری دنوں میں حکومتی کیمپ میں پناہ لے لی ، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے اور الزامات کی بوچاڑ کرنے والے آخری دوں میں شیر وشکر ہو گئے ، انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل میں پانچ جماعتوں کو نظر انداز کرنا کونسا جمہوری عمل ہے ؟ سردار حسین بابک نے کہا کہ پرویز خٹک اور لطف الرحمان نے نگران وزیر اعلیٰ کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل میں58(2)b کا استعمال کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں کی جانب سے آئینی اختیارات کا ناجائز استعمال جمہوریت کیلئے زہر قاتل ہے ، انہوں نے کہا کہ نگران وزیر اعلیٰ اور صوبائی کابینہ کیلئے پرویز خٹک اور لطف الرحمان کا گٹھ جوڑ آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے ، آئینی اختیارات کے ناجائز استعمال پر عوام سیاسی لوگوں کا مذاق اڑائیں گے ، انہوں نے کہا کہ میرٹ اور شفافیت کا درس دینے والے عمران خان ، پرویز خٹک اور لطف الرحمان ٹوپی ڈرامے میں مصروف ہیں اور صوبے میں دوبارہ حکومت بنانے کے دعویدار دھاندلی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں ہیں،

انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیب خیبر پختونخواہاؤس کے سیاسی استعمال کا نوٹس لے گا اور گزشتہ پانچ سال کا ریکارڈ طلب کر ے گا،تاکہ معلوم ہو کہ دھرنے کے دوران تبدیلی کارکنوں نے کب تک استعمال کیا ، کرک میں پانچ سال کے دوران اربوں روپے کے کروڈ آئل کی چوری کی تحقیقات ضروری ہیں ، بی آر ٹی ، بلین سونامی ٹری، انرجی اینڈ پاور ، سیاحت، معدنیات ، تعلیم ،صحت ، گندم کی خریداری، تعلیمی اداروں کو فرنیچر کی فراہمی ، دوا ساز کمپنیوں کی ملی بھگت سے کروڑوں کی کرپشن ، اشتہارات کی نام نہاد کمپنیوں کے ساتھ ساز باز کر کر کے کرپشن ، این ٹی ایس کی تحقیقات کا عوام انتظار کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں اربوں کے ٹھیکوں کی اپنے چہیتے ٹھیکیداروں کو بغیر ٹینڈر کے الاٹمنٹ صوبے کے ٹھیکیداروں سے ڈیڑھ ارب روپے بطور جرمانہ وصول کرنے کی انکوائری ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…