ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اصغر خان کیس جاتے جاتے حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا چیف جسٹس نےآخری حکومتی دن کی شام تک مہلت دیتے ہوئے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 31  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اصغر خان کیس میں کابینہ اجلاس نہ بلانے پرچیف جسٹس کا اظہار برہمی ، یہ اتنا سنجیدہ معاملہ ہے اور حکومت کو کوئی فکر ہی نہیں ہےتفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےاصغر خان کیس میں کابینہ اجلاس نہ بلانے پر حکومت کو آج شام تک کی مہلت دے دی ہے۔ دوران سماعت سخت ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ اتنا سنجیدہ معاملہ ہے اور حکومت کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے لاہور رجسٹری

میں اصغر خان کیس فیصلہ پر عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کابینہ نے اصغرخان کیس سے متعلق اب تک کوئی فیصلہ کیوں نہیں کیا۔جس کے بعد وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ کابینہ کا اجلاس بلانے کی مہلت دی جائے۔جس کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ اتنا سنجیدہ مسئلہ ہے اور حکومت کو کوئی فکر نہیں ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے اصغر خان کیس سے متعلق آج شام تک کابینہ کا اجلاس بلاکر فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آج ہی اس فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…