بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے 26مئی کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کے نام لکھا گیا خط منظر عام پر آگیا،خط میں کیا کچھ لکھاہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

کوئٹہ(آئی این پی)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے چیف جسٹس بلوچستان میر محمد نور مسکانزئی کو تحریر کئے گئے ایک خط میں عدالت کے ایک فاضل جج جسٹس کامران ملا خیل پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے تین افسران کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے، وزیر اعلیٰ کے خلاف مبینہ نازیباالفاظ استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا اور کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں جج عدلیہ کا معزز رکن ہے تاہم اس قسم کا رویہ عدالتی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے

اور یہ وزیراعلیٰ آفس اور حکام کے خلاف ذاتی عناد کا عکاس ہے اس لئے اس واقعے کی تحقیقات کی ضرورت ہے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے 26مئی2018کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کے نام لکھا گیا ایک خط منظر عام پر آگیا ۔ خط کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ 17مئی کو دوپہر12بجے بلوچستان ہائیکورٹ سے ایک ٹیلیفون کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ بلوچستا ن ہائی کورٹ کے جج جسٹس کامران ملاخیل چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے پرنسپل سیکرٹری حافظ عبدالباسط ، ایڈیشنل سیکرٹری لال جان جعفر اور پی ایس اور ٹو چیف منسٹر بابر خان سے ہنگامی بنیادوں پر اپنے چیمبر میں ملنا چاہتے ہیں ۔ خط میں کہا گیا کہ افسران فوری ہائیکورٹ پہنچے ، وہاں انہیں پتہ چلا کہ ایڈیشنل سیکرٹری ڈویلپمنٹ کو بھی اس میٹنگ کیلئے بلایا گیا ہے ، خط کے مطابق پہلے تو افسران کو چیمبر سے باہر انتظار کیلئے بٹھایا گیا اس کے بعد چیمبر بلا کر فاضل جج نے ان کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا ۔ انہوں نے اپنے پڑوس میں سڑک کی توسیع کے حوالے سے ترقیاتی سکیم کو مبینہ طور پر پی ایس ڈی پی سے خارج کئے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تاہم افسران نے فاضل جج کو جواب دیا کہ وہ کسی ایسی ترقیاتی سکیم سے لاعلم ہیں اور انہیں کسی ایسی سکیم کو پی ایس ڈی پی سے نکالے جانے کا بھی کچھ پتہ نہیں ۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ اس کے باوجود بھی فاضل جج نے غصہ جاری رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کے خلاف نامناسب الفاظ استعمال کئے

اور ان پر خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام لگایا ۔ خط کے مطابق فاضل جج نے افسران کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ان کی طویل پوسٹنگ کے حوالے سے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں تاہم ان کے افسران نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا ۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے کہا گیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فاضل جج عدلیہ کے معزز رکن ہیں تاہم اس قسم کا رویہ عدالتی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے اور یہ وزیراعلیٰ آفس اور حکام کے خلاف ذاتی عناد کا عکاس ہے اس لئے اس واقعے کی تحقیقات کی ضرورت ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…