ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی کا اس بار عام انتخابات میں تیر کے نشان سے میدان میں نہیں اترے گی بلکہ کون سا انتخابی نشان حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیاگیا؟ حیرت انگیزانکشاف،الیکشن کمیشن میں درخواست جمع 

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) پیپلز پارٹی کا اس بار عام انتخابات میں تیر کے نشان سے میدان میں نہیں اترے گی بلکہ کون سا انتخابی نشان حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیاگیا؟ حیرت انگیزانکشاف،الیکشن کمیشن میں درخواست جمع ، پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی نشان تلوار حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ درخواست پر منگل کو الیکشن کمیشن میں سماعت ہو گی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) نے آئندہ الیکشن تیر کے نشان کی بجائے تلوار کے انتخابی نشان سے لڑنے کا

فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی درخواست پر کل الیکشن کمیشن میں سماعت ہو گی۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیر حسین بخاری نے پارٹی چیئرمین بلول بھٹو زرداری کی منظوری سے تلوار نشان کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کراوائی ہوئی ہے۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی نے 1970 اور 1977 میں انتخابی نشان تلوار پر انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ تاہم بعد ازاں تلوار کا نشان انتخابی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا۔ اب الیکشن کمیشن نے تلوار کا نشان دوبارہ بحال کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…