جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

عمر خالد خراسانی کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں ڈلوانے کا معاملہ ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ناکامی کے بعدپاکستان نے ایک اور بڑے اقدام کا علان کردیا

datetime 14  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر خارجہ اور وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے اعلان کیا ہے کہ عمر خالد خراسانی کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں ڈلوانے کا معاملہ دوبارہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا ٗعمر خراسانی اور جماعت الاحرار پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ہے ٗجماعت الاحرار کے رہنماء پر پابندیاں لگنی چاہئیں۔ پیر کو اجلاس میں بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے کہا کہ چیئرمین سینٹ نے عمر خالد خراسانی کے حوالے سے معاملے پر بیان دینے کے لئے ہدایت کی تھی۔ اقوام متحدہ

کی سلامتی کونسل کی پابندیاں عائد کرنے والی کمیٹی نے جماعت الاحرار کے رہنما عمر خالد خراسانی کے حوالے سے معاملے پر غور کیا اور جو پابندی ہم نے تجویز کی تھی وہ عائد نہیں کی جاسکی۔ عمر خراسانی اور جماعت الاحرار پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ہے۔ جماعت الاحرار کے رہنماء پر پابندیاں لگنی چاہئیں کیونکہ اس جماعت پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔ ہمارے مجوزہ پابندی نہ لگنا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرے معیارات کو ظاہر کرتا ہے اور ہماری قربانیوں کی بھی توہین ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…