جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

تھر میں بچوں کی اموات کے حوالے سے آغا خان اسپتال نے تجزیاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی،رپورٹ میں بچوں کی ہلاکت کی وجہ کیا سامنے آئی؟افسوسناک انکشافات، چیف جسٹس ثاقب نثا ر نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

کراچی(آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثا رکی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ کے ریگستانی علاقے تھر میں صحت کی سہولیات کے فقدان اور بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ تھرمیں معصوم بچوں کی اموات کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، تھر میں بچوں کی اموات کے حوالے سے آغا خان اسپتال نے تجزیاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اموات کی وجہ صحت کی سہولیات کی

عدم دستیابی ہے جبکہ تھر میں ضابطہ کار پر بھی عملدرآمد نہیں نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس نے رپورٹ پڑھنے کے بعد ریمارکس دیئے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ سندھ حکومت ہی تھر میں بچوں کی اموات کی ذمہ دار ہے، سندھ حکومت بتائے غذائی قلت اور اموات کو روکنے کیل ئے کیا اقدامات کئے گئے۔عدالت نے تھرپارکر میں ہلاکتوں سے متعلق قائم کمیشن کی رپورٹس طلب کرلیں جب کہ کمیشن اور آغا خان کی رپورٹس کی روشنی میں سندھ حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…