منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وہ عرب جوڑا جنہیں ایک ہی آفس میں کام کرتے ہوئے محبت ہوگئی لیکن انکی ایسی حرکت جو انکی بدنامی کا باعث بن گئی،اپیل پرسپریم کورٹ بھی خاموش

datetime 5  مئی‬‮  2018 |

دبئی(سی پی پی) متحدہ عرب امارات میں ایک جوڑے پر عدالت نے سوشل میڈیا کے استعمال پر ایک سال کی پابندی عائد کی تھی کیونکہ جوڑے نے سنیپ چیٹ اور وٹس ایپ پر مبینہ طور پر ایک دوسرے کی نازیبا تصاویر کا تبادلہ کیا تھا ۔ مزید تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال 2017 میں یہ عرب جوڑا ایک ہی آفس میں کام کرتا تھا کہ انھیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی تھی اور جب یہ دونوں پیار میں تھے۔تو انہوں نے سمارٹ فون کی زریعے ایک دوسرے کی نازیبا تصاویر کا تبادلہ کیا تھا ۔

جوڑے کے خلاف قانونی کاروائی کی گئی تھی جب پراسیکیوشن کو پتہ چلا تھا کہ خاتون کی نازیبا تصاویر سنیپ چیٹ پر پوسٹ کی گئیں ہیں ۔ دبئی مجرمانہ عدالت نے جوڑے کو انفرادی طور ہر 250,000 درہم جرمانے کی سزا سنائی تھی اور ساتھ ہی ساتھ دونوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر ایک سال کی پابندی عائد کی تھی ۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد جاری کیے گیے عدالتی احکامات کے مطابق سینپ چیٹ اور انسٹاگرام سے جوڑے کی نازیبا تصاویر فوری طور پر ہٹا دی گئیں تھیں ۔عدالت نے جوڑے سے انکی اس نازیبا حرکت سے متعلق تفتیش کرنے کا حکم دیا تو لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ اسنے اپنے بوائے فرینڈ کو اپنی نازیبا تصاویر بھیجی تھی اور اسنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے ۔ تاہم لڑکے کا کہنا ہے کہ اسنے یہ تصاویر صرف اپنی باڈی کا خدوخال دیکھنے کی لیے لی تھیں اسکا مقصد انکو پبلک کرنا نہیں تھا ۔ جوڑے نے عدالت کے فیصلے کے خلاف پہلی اپیل کی تھی جس کے نتیجے میں ہائی کورٹ نے جوڑے کو کیے جانے والے جرمانے میں کمی کرکے اسے 25،000 درہم کر دیا تھا تاہم ان پرسوشل میڈیا کے استعمال پر لگائی جانے والی پابندی کو برقرار رکھا تھا ۔جوڑے نے سزا میں مزید کمی کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی ہے ۔ تاہم سپریم عدالت نے کیس کا کوئی فیصلہ نہیں سنایا ۔ کیس کا فیصلہ مزید تحقیقات تک ملتوی کر دیا گیا ہے ، کیونکہ جوڑے نے دوسرے دفعہ عدالت میں اپیل کی ہے اور وہ اپنے بیان پر قائم ہیں کہ وہ فحاشی پھیلانے کی کوشش نہیں کر رہے تھے ۔ لہذا ان پر لگائی جانے والی سوشل میڈیا پابندی کو ختم کر دیا جائے وہ اسکے حقدار نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…