تہران(مانیٹرنگ ڈیسک/نیوز ایجنسیاں)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خارجہ امور کے مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ معاہدے سے الگ ہونے کی اپنی دھمکی پر آگے بڑھتے ہیں تو ایران معاہدے سے نکل جائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق علی اکبر ولایتی نے ایران کے سرکاری ٹیلی وڑن کی ویب سائٹ پر اپنےایک بیان میں کہا کہ اگر امریکہ معاہدے سے الگ ہو جاتا ہے
تو پھر ہم بھی اس پر قائم نہیں رہیں گے۔ولایتی نے پابندیوں میں رعایت کے بدلے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کے کسی بھی عمل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری معاہدے کو صرف اسی حالت میں قبول کرے گا جیسے یہ طے کیا گیا تھا اور ہم اس معاہدے میں کسی اضافے یا کمی کو قبول نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں سے معاہدے کے بعد یورینیم افزودگی روک دی تھی اور معاہدے کے تحت امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے ایران سے پابندیاں اٹھا لی تھیں تاہم امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکی پالیسی میں تبدیلی آئی اور امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس سے الگ ہونے کا عندیہ دیاہے۔خیال رہے کہ افزودہ یورینیم ایٹم بم بنانے کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی جوہری معاہدے میں نئے مذاکرات کے امکانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی غنڈہ گردی کے آگے ڈتا ہوا ہے اور وہ دوبارہ مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر جوہری معاہدے میں شریک دیگر ممالک کو اکسا رہے ہیں۔واضح رہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں سے معاہدے کے بعد یورینیم افزودگی روک دی تھی اور معاہدے کے تحت امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے ایران سے پابندیاں اٹھا لی تھیں تاہم امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکی پالیسی میں تبدیلی آئی اور امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس سے الگ ہونے کا عندیہ دیاہے۔خیال رہے کہ افزودہ یورینیم ایٹم بم بنانے کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے بھی جوہری معاہدے میں نئے مذاکرات کے امکانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی غنڈہ گردی کے آگے ڈتا ہوا ہے اور وہ دوبارہ مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر جوہری معاہدے میں شریک دیگر ممالک کو اکسا رہے ہیں۔