اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

مصر نے فلسطینیوں کو آباد کرنے کی پیش کش کر دی، جس کا جواب دیتے ہوئے فلسطینی صدر نے کیا تہلکہ خیزانکشاف کیا؟

datetime 2  مئی‬‮  2018 |

بیت المقدس(نیوز ڈیسک) فلسطینی صدر محمود عباس نے انکشاف کیا ہے کہ سابق مصری صدر مرسی نے فلسطینی مسئلے کو دفن کرنے کے لئے فلسطینیوں کو سیناء میں بسانے کی پیش کش کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا،یہ ایک اسرائیلی منصوبہ تھا جس کو ‘جیورا آئی لینڈ’ کا نام دیا گیا تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے انکشاف کیا ہے کہ سابق مصری صدر محمد مرسی نے انہیں سیناء کے ایک حصّے میں فلسطینیوں کو بسانے کے لیے جگہ دینے کی پیش کش کی تھی

تاہم عباس نے اسے مسترد کر دیا۔پیر کے روز رام اللہ میں فلسطینی نیشنل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے عباس کا کہنا تھا کہ “یہ ایک اسرائیلی منصوبہ تھا جس کو ‘جیورا آئی لینڈ’ کا نام دیا گیا۔ اس کا مقصد مسئلہ فلسطین کو مکمل طور پر دفن کر دینا تھا۔عباس کے مطابق انہوں نے صدر محمد مرسی کو اس امر سے آگاہ کر دیا اور بتا دیا کہ فلسطینی عوام اسے ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ وہ اپنی سرزمین چھوڑ کر دوسروں کی اراضی پر نہیں رہیں گے۔محمود عباس چار سال قبل مصر کے دورے کے دوران مصری ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات میں یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ صدر محمد مرسی کے دور میں اسرائیل نے انہیں سیناء میں 1000 مربع کلو میٹر کی جگہ حوالے کرنے کی پیش کش کی تھی جس کو انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔عباس کے مطابق غزہ کی توسیع کے لیے حماس اور اسرائیل کے درمیان اس منصوبے پر مشاورت ہونا تھی۔ تاہم عباس نے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “ہم مصر کی اراضی سے ایک سینٹی میٹر بھی نہیں لیں گے”۔فلسطینی صدر نے بتایا کہ صدر محمد مرسی نے پیش کش مسترد کرنے پر ان کی سرزنش بھی کی۔ بعد ازاں اس وقت مصری وزیر دفاع نے سیناء کی اراضی کو قومی سلامتی قرار دے کر اس منصوبے کو ختم کر دیا تھا۔عسکری امور کے ماہر بریگیڈیئر جنرل حسام سویلم نے بتایا کہ مذکورہ پیش کش دراصل ایک منصوبے

کا حصّہ تھا جو اسرائیل میں “جیورا آئی لینڈ کی دستاویز” کے نام سے جانا گیا۔ اس دستاویز میں کہا گیا کہ مسئلہ فلسطین اکیلے اسرائیل کی ذمّے داری نہیں بلکہ یہ 22 عرب ممالک کی بھی ذمّے داری ہے۔ لہذا مصر اور اردن پر بھی لازم ہے کہ وہ کثیر جہتی علاقائی حل کا فارمولا تیار کرنے میں فعّال اور مثبت صورت میں شریک ہوں۔ اسرائیلی منصوبے میں زور دیا گیا کہ مستقبل میں فلسطین کی ریاست کو

مصر میں شمالی سیناء4 کی اراضی سے 720 مربع کلو میٹر کا رقبہ مہیّا کیا جائے۔ سویلم کے مطابق اس طرح غزہ پٹی کا مجموعی رقبہ تین گْنا ہو جاتا جس کا موجودہ رقبہ صرف 365 مربع کلو میٹر ہے۔ اس کے مقابل فلسطینیوں کو مغربی کنارے کے 12% رقبے سے دست بردار ہونا تھا تا کہ وہ حصّہ اسرائیلی ریاست میں شامل کیا جا سکے۔ ادھر مصر کو اس کے عوض مغربی نقب کے علاقے عادی فیران میں مساوی اراضی دی جاتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…